شریعت اور جمہوریت

کیا جمہوریت کے ذریعے نفاذِاسلام ممکن ہے؟ (قسط اول، دوئم)۔ لال مسجد کے خطیب عبدالرشید غازی کا مضمون روزنامہ جنگ میں۔ اس مضمون میں عبدالرشید غازی یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جمہوریت خود خلاف اسلام ہے اس لئے جمہوریت کے ذریعے اسلام کا نفاذ ممکن نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

اسلام سیاسی، معاشی، معاشرتی غرض ہر لحاظ سے ایک کامل و اکمل دین ہے۔ اسلام کی ابتدائی فتوحات میں صحابہ کرام نے مفتوح قوموں کے سامنے اسلامی نظام حکومت کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا تھا کہ اسلام کا بنیادی مقصد بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی غلامی میں داخل کرنا ہے جبکہ جمہوریت کی ایک بہت زیادہ مشہور اور جامع مانع تعریف امریکا کے سولہویں صدر ابراہم لنکن نے ان الفاظ میں بیان کی’Government of the people by the people, for the people” یعنی”بندوں کی حکومت ،بندوں کے ذریعے،بندوں کے لیے“دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ”بندوں کوبندوں کی مرضی سے بندوں کی غلامی میں داخل کرنا “۔

اسی سے اندازہ ہوجانا چاہئے کہ اسلام اور جمہوریت میں کتنا واضح بُعد ہے جبکہ اسلام تو بندوں کی غلامی سے نکال کراللہ کی غلامی میں لانے کا نام ہے۔ نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ بنی نوع انسان آغاز اسلام سے قبل ”جمہوریت“ کے ناکام تجربے سے گزرچکا ہے ۔ 500 قبل مسیح یونان کی بعض ریاستوں میں ”جمہوریت“ رائج رہی لیکن اپنے گوناگوں مفاسد اور مضرت رساں پہلوؤں کے باعث بری طرح ناکام ثابت ہوئی حتیٰ کہ ”ارسطو“ جیسا مفکر بھی اس طرز سیاست کے شدید مخالفین میں سے تھا ۔ بعد ازاں قریباً دو ہزار سال تک اس فرسودہ نظام سلطنت سے کرہٴ ارض مکمل طور پر پاک رہا پھر اٹھارہویں صدی کے اواخر میں4 /اگست1779ء کی ایک منحوس شب”جمعیت وطنیت فرانس“ نے اپنا منشور انقلاب شائع کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انقلاب فرانس کے بعد مذکورہ ”منشور آزادی“ پیش کرکے ”جمہوریت“ کے مُردہ جسم میں جان ڈالنے والے وہ لوگ تھے جو مذہب سے شدید نفرت کرتے تھے ،کلیسا کے مظالم اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے سسکتے فرانسیسی اپنے بادشاہ کے استبدادی نظام اور ٹیکسوں کی بھر مار تلے بھی کچلے جارہے تھے چنانچہ ان کے منشور آزادی میں جتنی دشمنی بادشاہی نظام سے نظر آتی ہے اس سے دُگنی بیزاری اور نفرت ”مذہب“ سے بھی روا رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس منشور آزادی میں سیاسی مساوات اور جنسی مساوات ایسی ہیں جن کا جواز انجیل سے بھی ثابت نہیں ہوسکتا اور اسلامی نصوص میں تو ان کے خلاف اتنی واضح آیات اور احادیث مل سکتی ہیں کہ باقاعدہ ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے۔”جمہوریت“ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا تصور گویا اس نظام کی روح تصور کیا جاتاہے جبکہ اسلامی طرزحکومت میں حزب اختلاف کا تصور محال ہی نہیں سرے سے ناپید ہے۔ ذراغور کیجئے! جب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق  کے دست صداقت پر تمام اکابر صحابہ  نے بیعت کرلی تو اس کے بعد کونسی سیاسی پارٹی یا گروہ بچ رہا تھا جو حکومت کے اقدامات پر نکتہ چینی کرنے کے لئے باقاعدہ تشکیل دیا گیا ہو۔یقیناکوئی نہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے مذہبی راہنمابھی جمہوریت کے لادینی نظام پر تنقید کرنے کی بجائے اس کے ٹوٹے پھوٹے ستونوں کو اسلامی پلستر سے جوڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

جناب عبدالرشید غازی صاحب کی عربی اور اردو میں مہارت پر تو کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم مجھے لگتا ہے کہ ان کی انگریزی کافی کمزور معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ انگریزی لفظ people کا اردو ترجمہ بندہ نہیں ہوتا۔ اردو لفظ بندہ چونکہ بندگی سے جڑا ہے اس لئے غازی یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ جمہوریت دراصل بندگی سے بغاوت ہے۔

اسلام سے قبل دنیا جمہوریت کے ناکام تجربے سے گزر چکی تھی۔ یہ میرے لئے بالکل نئی معلومات ہیں۔ کیونکہ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ موجودہ جہوری فلسفے کا آغاز یورپ کی بیداری نو سے ہوتا ہے۔ اس جمہوریت میں اور یونانی جمہوریت میں کئی فرق ہیں۔ جیسا کہ اگر ابراہم لنکن کے ہی مندرجہ بالا قول کو دیکھیں تو یونانی جمہوریت میں عوام کی حکومت نہیں بلکہ خواص کی حکومت ہوتی تھی، جسے خاص خاص لوگ ہی منتخب کرتے تھے اور مخصوص لوگ ہی چلاتے تھے۔ تاہم رائے دہندگی، ایوان نمائندگان، وغیرہ ضرور مستعار لئے گئے ہیں مگر موجودہ جمہوریت اس جمہوریت سے ارتقائی عمل میں اتنی دور آچکی ہے کہ ان دونوں کو ایک جیسا سمجھنا محض غلطی ہے۔

انقلاب فرانس کے بانیان مذہب بیزار تھے یا کلیسا بیزار تھے؟ جہاں تک مجھے علم ہے ان کی بیزاری کا تعلق کلیسا اور امراء کے مظالم سے تھا۔ مذہب بیزاریت تو جمہوریت کا کبھی عنصر نہیں رہی۔ حتی کہ امریکہ میں بھی جمہوریت اور مذہب کا گہرا تعلق ہے۔ معلوم نہیں غازی صاحب کو یہ کیوں لگتا ہے کہ جمہوریت پسندی دراصل مذہب بیزاری، اسلامی احکامات سے مفر اور جنسی اختلاط کی آزادی کے سوا اور کچھ نہیں۔