05/17/2007

بارہ مئی کو جب پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کی غرض سے عروج ضیاء (میٹروبلاگنگ کی بلاگر اور جرنلسٹ) مزار قائد کی طرف جارہی تھیں تو شرپسندوں نے ان کے سر پر ٹی ٹی پستول رکھ دی۔ ان کا پریس کارڈ دیکھنے پر انہیں جانے دیا گیا۔ یہ سب کچھ پولیس موبائل کی موجودگی میں ہوا۔ اسی بارے میں پڑھئے ڈاکٹر علوی کی پوسٹ۔

تبصرہ جات

“بہادر خاتون جرنلسٹ بندوق کی زد میں” پرایک تبصرہ ہوئے ہیں

  1.  اسماء رقم طراز ہیں:

    Yup read it on Karachi MB,
    unfortunately that’s just a one case we knew … many others and much larger one got lost in the dust …!

آپکا تبصرہ

تبصرہ جات اس پالیسی کے تحت قبول کرے جاتے ہیں۔

اردو میں لکھے گئے تبصرہ جات پسندیدہ ہیں، لیکن آپ رومن اردو یا انگریزی میں بھی تبصرہ لکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے کمپیوٹر میں اردو سپورٹ انسٹال نہیں ہے تو اردو انسٹال کرنے اور کمپیوٹر پر باآسانی اردو لکھنے کی معلومات حاصل کریں۔