اندھیر نگری چوپٹ راجا

مئی 5th, 2007

ملک بھر میں اب بازار سر شام ہی بند کرنے کا حکم لاگو ہوگیا ہے۔ تاکہ بجلی بچائی جاسکے اور لوڈشیڈنگ سے بچا جاسکے۔ کل کلاں اگر پانی کی قلت مزید سنگین صورتحال اختیار کرجائے گی تو غالبا حکم ہوگا کہ اب روز روز کا نہانا بند، پوری قوم ایک ساتھ جمعے کے جمعے نہایا کرے گی۔

“اندھیر نگری چوپٹ راجا” پر7 تبصرہ جات ہوئے ہیں

  1.  اجمل رقم طراز ہیں:

    ارے آپ تو میرے جیسے انتہاء پسند نکلے ۔ پچھلے سات سال سے ملک میں روشن خیالی اور معاشی ترقی کا دور دورا ہے ۔ سرکاری بجلی کی ضرورت تو انتہاء پسندوں کو ہوتی ہے ۔ سرکار کی تو بجلی اپنی ہے وہ جیسے چاہے استعمال کرے ۔ اور ہاں آپ تو سائنس کے ماہر ہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ پانی سے ہائیڈروجن نکال کر اس سے ہائیڈروجن بم بنایا جا سکتا ہے جو روشن خیالی کے خلاف دہشتگردی میں استعمال ہو سکتا ہے ۔ اسلئے اَن قریب انتہاء پسندوں کیلئے پانی بھی بند کر دیا جائے گا ۔ اورچونکہ انتہاء پسند صرف غریب یا متوسط لوگوں میں ہوتے ہیں اسلئے صرف غریب اور متوسط لوگوں کیلئے پانی بند کیا جائے گا ۔ کیا کہا اشاء خوردو نوش بہت مہنگی ہو گئی ہیں ؟ آپ جانتے ہی نہیں کہ معیشت بہت مضبوط ہو گئی ہے اور غربت پہلے سے بہت کم ہو گئی ہے ۔ ہمارے ایک مرکزی وزیر صاحب نے پصچھلے ماہ فرمایا تھا کہ اگر ایسا نہیں تو لوگ کیسے اتنی مہنگی اشیاء خرید کر کھا رہے ہیں ؟

  2.  ساجداقبال رقم طراز ہیں:

    ارے نعمان بھائی۔۔۔جمعہ تو ہر ہفتے آجاتا ہے۔۔۔عیدوں پر نہائیں گے۔ اور جو جمعہ کے جمعہ نہائے گا وہ انتہا پسند ہوگا۔

  3.  Mushtaq رقم طراز ہیں:

    Ajmal sahib, jamia hufsa say pooch kay bata dain saaf paani aur bijlee paida kurnay ka traiqa.

  4.  احمد رقم طراز ہیں:

    جناب خود پر ضرب لگی تو چیخ پڑے۔ سچ بات یہ ہے کہ دکانیں صبح جلدی کھولنا اور آٹھ بجے تک بند کردینا ایک اچھی تجویز اور ترقی یافتہ ملکوں کا معمول ہے۔

  5.  نعمان رقم طراز ہیں:

    ساجد ہاں عید پر تو نہانا ہی پڑے گا عیدوں پر یہ لوگ عوام کے درمیان آکر نماز بھی تو پڑھتے ہیں۔ تعفن اٹھے گا طبع نازک پر گراں نہ گزرے گا؟

    احمد ضرب تو بھائی پڑی ہے آخر میں بھی تو ایک عام پاکستانی ہوں۔ ہاں اگر اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ مجھے اپنی دکان جلدی بند کرنا ہوگی تو آپ کا یہ تاثر درست نہیں۔ کیونکہ ہماری دکان کو اس پابندی سے استثنی حاصل ہے۔

  6.  Faisal رقم طراز ہیں:

    یہاں برلن میں مغرب کی نماز تقریبا پونے نو بجے ہوتی ہے جبکہ دکانیں آٹھ بجے بند ہو جاتی ہیں۔ صرف چند ایک غالبا خصوصی اجازت لے کر کھلی رہتی ہیں۔ اگر ایسا ہمارے ملک میں بھی ہو جائے تو خاصی بجلی بچائی جا سکتی ہے۔ یہاں لوگ کھانا تقریبا سات ساڑھے سات تک کھا لیتے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسا کرنے والے کو دیہاتی سمجھا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے دکانیں رات کو دیر تک کھلی رکھ کر ہم کوئی ترقی نہیں کر جائیں گے۔ بہرحال اس بات سے اختلاف سب کا حق ہے۔

  7.  نعمان رقم طراز ہیں:

    فیصل طنز اس بات پر نہیں کہ دکانیں کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کیا ہوں۔ بلکہ اس بات پر ہے کہ بجلی کی بچت کے لئے اگر ایسے طریقہ کار استعمال کرے جانے لگے تو ہم بجلی کی پیداوار بڑھانے کے بارے میں کب سوچیں گے؟

آپکا تبصرہ

تبصرہ جات اس پالیسی کے تحت قبول کرے جاتے ہیں۔

English اردو

English اردو