طالبان کے نقش قدم پر

اسلام آباد میں جامعہ حفصہ نامی ایک مدرسے کی طالبات نے اسلام آباد میں ایک مکان پر دھاوا بول کر تین خواتین کو یرغمال بنالیا جنہیں بعد ازاں مدرسے منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کی چار استانیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ مدرسے کے منتظم نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگر استانیوں کو فورا رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کردیا جائے گا۔ مدرسے کے منتظم نے بتایا کے یرغمال بنائی جانیوالی خواتین جنسی کاروبار میں ملوث تھیں اور انہیں اہل محلہ کی جانب سے ان کے خلاف شکایتیں موصول ہونے پر کاروائی عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان خواتین پر زنا کا مقدمہ چلایا جائے ورنہ مدرسے کے اندر ہی قاضی عدالت لگا کر شریعت کی رو سے ان خواتین کو قرار واقعی سزا دی جائیگی۔ ادھر وزیرستان میں مقامی طالبان، پنجابی طالبان اور ساری دنیا سے جمع کئے گئے طالبان ازبک غیر ملکیوں کے خلاف برسر پیکار ہیں اور حکومت پاکستان خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ وزیرستان، باجوڑ، صوبہ سرحد کے شہری علاقوں اور دیگر علاقوں سے آئے دن اس قسم کی خبریں آرہی ہیں۔

کبھی نائیوں کو داڑھی مونڈھنے پر بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
کبھی بچیوں کے اسکولوں کو خودکش حملے سے تباہ کرنے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔
کبھی کسی علاقے میں ویڈیو شاپس کو نذر آتش کردیا جاتا ہے۔
کبھی مدرسے کی طالبات قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے لائبریریوں پر قبضہ کرلیتی ہیں۔

ملک میں انارکی اور لاقانونیت بڑھتی جارہی ہے اور معاشرہ تیزی سے مذہبی جنونیت کا شکار ہوتا جارہا ہے۔