خوشبو آ نہیں سکتی، کبھی کاغذ کے پھولوں سے

اتنے دنوں کی کوشش کے بعد، بالآخر آج میں نے نعمان کی ڈائری ہیک کرہی لی اس سے پہلے کہ وہ مجھ سے اس کا کنٹرول واپس جھین لے میں نے سوچا کم از کم اس کا بھانڈا تو پھوڑ ہی دوں۔ بڑا استاد بنا پھرتا ہے۔ میں نے بھی اس کی قلعی نہ کھولی تو نام نہیں۔

ارے بلاگر بھائیوں یہ جو نعمان ہے نا، ارے یہی جو یہاں آزاد سوفٹویر، آزاد عورت، آزاد معاشرے کے نعرے لگاتا ہے اور انصاف و آزادی کا بڑا حمایتی بنا پھرتا ہے۔ سنو سنو آج مجھ سے سنو اس کے کالے کارنامے۔ ادھر تو یہ بڑا انسانیت کا ہمدرد، نیک دل، انصاف پسند اور خدا ترس بننے کی اداکاری کرتا ہے۔ ادھر یہ اپنی دکان پر غریب گاہگوں سے دو روپے زائد وصول کررہا ہے۔ آٹھ آٹھ آنے پر یہ خود بھی آٹھ آٹھ آنسو رونے کی اداکاری کرتا ہے اور گاہگوں کو بھی رلاتا ہے۔ بیچاروں کی خون پسینے کی کمائی مہنگی دہی اور پتلا دودھ خریدوا کر نچوڑ لیتا ہے اور اس سے اپنی ریاست کھڑی کرنے کے چکر میں ہے۔ تو بھائیو اس کے جھانسے میں نہ آنا۔

ارے اس کے کرتوتوں سے تو دفتر بھر جائیں دو چار کارنامے اور سنا دیتا ہوں تاکہ اس کی اصلیت کا پردہ چاک ہوسکے اور اس کا اصل روپ عیاں ہو۔ کوئی گز بھر لمبی زبان ہے اس کی، اور اتنے ہی قطر میں اس کی توند پھیلی ہوئی ہے۔ ایک بار میں نے ازراہ طنز پوچھا، ابے یہ اس پیٹ میں کسی کا پاپ ہے یا یہ سارے تیرے ہی پاپ ہیں۔ تو ڈھٹائی سے بولا نہیں جی جو کچھ ہے اب تو میرا ہی ہے۔ گھر والوں نے، میرے جیسے مخلص دوستوں نے اسے بڑے مشورے دئیے کہ یار اس سے چھٹکارا پا اور واپس جوانی اور رعنائی کی طرف لوٹ آ۔ مگر نہیں، جان جائے خرابی سے ہاتھ نہ رکے رکابی سے۔

اور سنو یہ جو بڑا فری سوفٹویر آزاد سوفٹویر کرتا ہے۔ کل میں نے اس کے بھائی کو ایک ٹھیلے سے ونڈوز وسٹا کی سی ڈی خریدتے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ میری جرح پر اس نے بتایا کہ بھائی چاہتے ہیں ہم اپنے کمپیوٹر پر ایک کونے پر چوری کی ونڈوز بھی ڈال دیں۔ توبہ توبہ، یہاں کیسا ابنٹو اور لینکس کی جے جے کار کرتا ہے اور خود اس کے بھائی چوری کی ونڈوز استعمال کررہے ہیں۔ اللہ معاف کرے بھئی ایسا دوغلا آدمی میں نے نہیں دیکھا۔ زبان پر کچھ، دل میں کچھ، باتیں بڑی بڑی اور اعمال دیکھو۔

پیسے کمانے کی مشین بنا ہوا ہے۔ کھٹارا گاڑیوں کو سادے پانی سے دھلوا کر نئی بنا کر بیچتا ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گندے گندے ویب سائٹ چلاتا ہے جن پر ننگ دھڑنگ بھارتی اداکاراؤں کی تصویریں اور اسے بھی زیادہ عریاں خبریں شائع ہوتی ہیں۔ اب پیسہ کمانے کی ایسی بھی کیا دوڑ کہ بندہ حرام حلال کی تمیز ہی کھودے۔ اور سنو یہ بڑا بدتمیز بھی ہے۔ ایک بیچارہ بلاگر ملتان سے پیدل چل کر امتحان کے سلسلے میں کراچی آیا اور اس سے ملاقات کرنی چاہی تو اس نے بہانے سے اسے ٹال دیا۔ اجی اس کا کیا جاتا ہے مگر اس ملتانی بلاگر نے دیکھو نا ہم کراچی والوں کے بارے میں کیسی رائے قائم کی اور اس پر طرہ یہ کہ اسے شائع بھی کردیا۔ دیکھو وہاں سب نے کراچی والوں کے بارے میں کیسی کیسی باتیں لکھیں۔

اس کی کچھ حرکتیں تو ایسی ہیں کہ مجھ ایسا شریف آدمی انہیں رقم بند کرتے ہوئے بھی شرم سے پانی پانی ہوتا ہے۔ دین سے دور تو یہ شخص ہے ہی لیکن دنیا سے بھی بیگانہ ہے۔ ایک عرصے سے میں اس کی تلاش میں ہوں کہ اسے پکڑوں، جھنجھوڑوں، راہ راست پر لانے کی کوشش کروں مگر یہ ملتانی بلاگر کی طرح مجھے بھی دھوکہ دے جاتا ہے۔ بڑے فون کھڑکائے بڑی آوازیں لگائیں، مگر یہ میری ہر صدا، ہر پکار نظر انداز کرتا جارہا ہے۔ آپ ہی بتائیں بھلا یہ بھی کوئی آدمیت ہے کہ آدمی اپنے عمر بھر کے رفیق، اپنے ہمدرد اور اپنے ضمیر کو ہی بھول جائے اور اسے پہچاننے سے انکار کردے؟