آج جیو ٹی وی کا ویبسائٹ دیکھا تو ایک نئی چیز پروگرام آرکائیوز کا پتہ پڑا۔ اس سے آپ جیو پر پیش ہونے والے چند پروگراموں کے ٹرانسکرپٹس پڑھ سکتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
میٹروبلاگنگ کراچی پر منصور کی پوسٹ (انگریزی میں) “ہم شرمندہ ہوجاتے ہیں۔ سندھ پولیس“۔ میرا یہ خیال ہے کہ سندھ پولیس اپنے محدود وسائل اور ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی میں بہت اچھا کام کرتی ہے، لیکن افسوس عوام کا پولیس پر اعتماد بہت مجروح ہوچکا ہے۔ اس بد اعتمادی میں میڈیا کا بڑا ہاتھ ہے۔





"طالبان کی عدالت میں" پرطفل لکھتے ہیں: نعمان چاچا آپ کے بلاگ کی پرانی تحاریر میں تلاش کرنا چاہ رہا ہوں مگر ناکام رہا
"طالبان کی عدالت میں" پرطفل لکھتے ہیں: نعمان چاچا آپ ہمیشہ یہی تہمت لگادیتے ہم نے بارہا آپکو ایسےتبصرے ڈلیٹ کرتے دیکھا ہے جس
"طالبان کی عدالت میں" پرنعمان لکھتے ہیں: حافظ اگر تم مجھ پر کفر کے فتوے صادر نہ کرو اور ذاتیات سے گریز کرو تو
"طالبان کی عدالت میں" پرحافظ عطاء اللہ لکھتے ہیں: ((چربہ))
"طالبان کی عدالت میں" پرحافظ عطاء اللہ لکھتے ہیں: ایک چیز میں کہنا چاہ رہا تھا مگر باتوں میں گول ہوگئی وہ یہ کہ: نعمان صاحب کی
"طالبان کی عدالت میں" پرحافظ عطاء اللہ لکھتے ہیں: کچھ بڑےٹائپنگ ایررز: 1- اوپر ایک جملہ دو دفعہ پیسٹ ہوگیا ہے جس کے لئے معذرت چاہوں
"طالبان کی عدالت میں" پرحافظ عطاء اللہ لکھتے ہیں: آپ کا پہلا سوال ہی اس بات کا غماز ہے کہ آپ میری بات سمجھ نہیں پائے