ملائیت کی طرف ایک قدم اور

اسلام کے نام پر پاکستان کے عوام کے ساتھ جاری مسلسل ڈرامے بازی کا نیا ایکٹ حسبہ بل کے عنوان سے سرحد اسمبلی کے تھیٹر میں منظور ہوچکا۔ اس قانون کی کئی شقیں انتہائی متنازعہ ہیں۔ جن سے عدلیہ کے انتظام سے ہٹ کر ایک متوازی عدالتی نظام کیا گیا ہے۔ اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ صرف یہ کہ طالبانائزیشن کو ڈنڈے کے زور پر منوایا جاسکے گا، مخالفین کو ہراساں کیا جاسکے گا اور مذہب کے نام گلی محلوں کی سطح پر بھی ڈرامے اسٹیج کئے جاسکیں گے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس بل پر کڑی تنقید کی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اسے ازمنہ وسطی کی جہالت گردانا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان میں جمہوریت اور قانون کی عملداری کے لئے ایک سنگین دھچکا ہے۔ ایسی دیوار جو پہلے ہی شکستہ ہے ایسے زیادہ جھٹکے برداشت نہیں کر پائے گی۔ واضح رہے کہ حسبہ بل کی منظوری تبلیغی جماعت کے اجتماع کے ختم ہوتے ہی عمل میں آئی ہے اور باجوڑ واقعے کی وجہ سے سیاسی لحاظ سے یہ بالکل مناسب وقت تھا اس قانون کو منظور کرانے کا۔

حسبہ بل کا پرانا سپریم کورٹ کا مسترد شدہ مسودہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ نیا مسودہ فی الحال دستیاب نہیں۔ ویکیپیڈیا پر انگریزی میں اس بارے میں ایک مضمون موجود ہے جو اس لائق ہے کہ غور سے پڑھا جائے۔