صوبہ سرحد کے طالبان بل کے بارے میں اردو بلاگز بہت لکھ رہے ہیں۔ ہم صوبہ سندھ میں رہتے ہیں اسلئے ہمیں اس بل سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سندھ کے وڈیرے اس بل کو کبھی سندھ میں نہیں لگنے دیں گے۔ سندھ میں چونکہ کراچی بھی شامل ہے تو اسلئے یہ بل کراچی کی معیشت اور پاکستان کی معیشت کے لئیے نقصان دہ ہے جس کی وجہ سے یہ یہان نہیں چل سکتا۔ کراچی کی کافی خواتین ویسے ہی برقعے فیشن میں پہنتی ہیں اور آجکل تو حجاب بہت ہی عام ہوگیا ہے۔ اس کو مزید عام کرنے کے لئیے میڈیا زیادہ بہتر کردار ادا کر رہا ہے جیسے جیو پر ایک خاتون صحافی عاصمہ آتی ہیں جو حجاب پہنتی ہیں۔ قانون سازی کے ذریعے اخلاقیات نہیں سدھرتیں بلکہ تعلیم، تبلیغ، تربیت اور عمل کر کے دکھانے سے لوگ جلدی کسی چیز کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
گانے بجانے پر پابندی تو بے فضول ہے ہاں اونچی آواز میں بجانے پر پابندی ہونا چاہئیے۔ خواتین کے اشتہارات کی بات ہے تو یہ مسئلہ مغربی ممالک میں بھی عام ہے اور وہاں بھی خواتین کی انجمنیں عورتوں کو بطور نمائشی چیز پیش کرنے پر اکثر آواز اٹھاتی ہیں۔ خواتین کی اشتہارات میں موجودگی کو مانیٹر کرنے کا اختیار صرف صارفین یا خواتین کی انجمنوں کو ہونا چاہئیے کسی مذہبی پولیس کو نہیں۔
صوبہ سرحد کی حکومت ایشین بینک سے اور ورلڈ بینک سے جو قرضے لیتی ہے کیا وہ سود سے پاک ہوتے ہیں یا صوبہ سرحد میں اسلامی قانون صرف عوام کے لئیے ہے اور حکومت کے لئیے نہیں۔
آج کامران بازار گیا عید کی شاپنگ کرنے اور دو عدد لش قسم کی پتلونیں اور شرٹس لایا ہے۔ عازب نے بھی کچھ خریداری کی ہے۔ میں نے کچھ نہیں لیا کیونکہ میرے پاس پہلے ہی بہت کپڑے ہیں اور عید پر شلوار قمیض پہن کر نماز پڑھنے جانا ہوتا ہے تو میرے پاس ایک جوڑا نیا پڑا ہوا ہے جو میں عید پر پہن لونگا۔ جوتے اور سینڈل بھی ہیں۔ ٹوپیاں بھی ڈھیر پڑی ہیں اور ویسے بھی میں کپڑے بدل کر جاؤں گا کہاں اور بال بناؤنگا کس کے لئیے وہ ڈارلنگ تو شہر ہی چھوڑ گئی میں گانا گاؤں کس کے لئیے۔
اس سے مجھے یاد آتا ہے جب میں نیا نیا جوان ہوا تھا۔ دراز زلفیں، کھلا گریبان اور بیگی پھر چست پتلونیں پہن کر دوستوں کے ساتھ سی ویو جایا کرتا تھا۔ میرے دوست ان لوگوں میں سے تھے جو خواتین کو تاڑتے نہیں تھے بلکہ ایک نظر میں ہی زیادہ سے زیادہ دیکھ کر جلدی سے مہذب بن جاتے تھے۔ کبھی مجھے ان آدمیوں پر رشک آتا ہے جو دیدہ دلیری سے خواتین کو دیکھتے ہیں۔ اور ہم جیسے لوگ شرم ہی شرم میں کئی ایسے چہرے مس کردیتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر کسی شاعر نے کہا تھا کہ تعریف اس خدا کی جس نے تجھے بنایا۔ ایک بلاگر ہیں ہارون امریکہ میں رہتے ہیں خدا کی تعریف کے بارے میں ان کا یہ کہنا ہے۔





نومبر 2nd, 2005 11:15 am
میں وہی شخص ہوں جس نے آپ کو اپنی تحریر میں برے الفاظ نہ شامل کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ میں لمبی لمبی پو سٹ کم ہی پڑھتا ہوں مگر آپ کی سب تحریریں پڑھتا ہوں ۔
محترم یہ آپ نے جو لنک دیا ہے وہ کھل نہیں رہا ۔
آپ خالص دودھ بیچتے ہیں کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ کمپیوٹر کے ذریعہ آپ روزانہ مجھے دودھ بھج دیا کریں ۔ یہاں اسلام آباد میں اب خالص دودھ نہیں ملتا ۔
نومبر 2nd, 2005 8:18 pm
اجمل بھائی، لنک میرے پاس تو صحیح کھل رہا ہے۔ اگر کہیں تو اپنے بلاگ پر پوری ہاروں کی پوری پوسٹ کاپی کردوں؟
دودھ کے خالص ہونے کا دعوی کرنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ہم دودھ صرف فروخت کرتے ہیں پروڈیوس کہیں اور ہوتا ہے۔ لیکن ہم اپنی سی کوشش کرتے ہیں کوالٹی مینٹین رکھنے کی۔ میں نے خود تو نہیں چکھا مگر سنا ہے کہ اسلام آباد اور لاہور میں دودھ بہت خراب ملتا ہے۔ اس کی وجہ افراط ہے اور کمپیٹیشن کی کمی ہے۔ کراچی میں دودھ کی پروڈکشن محدود ہے اور مقابلے بازی بہت زیادہ ہے۔
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ اتنی توجہ دیتے ہیں، اور اپنی رائے سے نوازتے ہیں۔ دیکھیں بات پھر وہیں آگئی، تعریف اس خدا کی جس نے ہمیں آپکو لکھنا پڑھنا سکھایا۔
نومبر 5th, 2005 2:55 am
جناب يه بے فضول كى ٹرم كچهـ سمجهـ نهيں آئى ـ
جس طرح بے حيا بے شرم بے غيرت ـ بے وقوف ـ بے درد ـ هوتے هيں اگر يه بے فضول بهى اس طرح كى كوئى چيز هے تو اردو ميں اس كے لئيے كار آمد كا لفظ بهى استعمال هوتا هے ـ
خاور كهوكهر
نومبر 5th, 2005 2:59 am
خاور ، اردو گرامر قواعد وغیرہ سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ پھر بھی میں اتفاق کرتا ہوں کہ لفظ صحیح نہیں۔ صحیح لفظ ہے فضول۔