05/05/2008

سائنسدان کافی عرصے سے زمین پر موجود دوسرے جانداروں میں ذہانت پر تحقیق کررہے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ بڑے بن مانس اور بوتل جیسی گردن والی ڈولفنز کافی ذہین مخلوق ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈولفن ان چند جانوروں میں سے ایک ہے جو اپنے وجود سے آگاہی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پیچیدہ گتھیاں سلجھانے کی قابلیت بھی رکھتی ہیں۔ ان کے درمیان سماجی شعور بھی پایا جاتا ہے، یہ آواز کو ابلاغ کے لئے استعمال کرنے کے فن میں عام جانوروں سے کہیں زیادہ اور انسان سے کچھ ہی کم مہارت رکھتی ہیں۔ موسیقی سے ان کے شغف کی خبر تو پرانی ہے، اب پتہ چلا ہے کہ یہ ٹیلیوژن سے بھی لطف اندوز ہوتی ہیں۔ نقل اتارنے کے فن میں یہ بندر اور بن مانس سے اگر کم ہیں تو کیا تخلیق، ترکیب اور تدبیر میں ان سے آگے ہیں۔ یہ بات بھی لائق ذکر ہے کہ ان میں سے کچھ اقسام اوزاروں کے استعمال سے بھی واقف ہیں۔ بن مانس، اور انسان کی ذہانت کو دیکھیں تو ڈولفن کی ذہانت حیرت انگیز نظر آتی ہے۔ کیونکہ ڈولفن اور انسان کا ارتقائی رشتہ بہت دور کا ہے اور اس میں خشکی اور تری کے ماحول کا فرق بھی حائل ہے۔

تین سال کی بے فکری ۔ ابنٹو کا نیا نسخہ

بتاریخ: 25 اپریل 2008

ابنٹو کا نیا نسخہ ابنٹو 8۔04 ہارڈی ہیرون جاری ہوگیا ہے۔ کل ہی اسے اتارا اور نصب کرا۔ بے چینی کا سبب یہ تھا کہ میں اس کا بیٹا نسخہ استعمال کرچکا تھا۔ اور درحقیقت ابنٹو ہارڈی ہیرون اب تک میں نے جتنے بھی لنکس ڈسٹری بیوشنز استعمال کی ہیں ان میں سب سے بہترین ہے۔ ابنٹو میرے تمام ہارڈویر کو بہت اچھی طرح استعمال کرتا ہے اور اس معاملے میں ونڈوز سے بھی سبقت لے جاتا ہے حالانکہ میرے کمپیوٹر کا تمام ہارڈویر ونڈوز کے لئے ہی تیار کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ونڈوز ایکس پی میری چپ سیٹ کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھاتا۔ جبکہ ابنٹو بائی ڈیفالٹ یہ سب استعمال کرتا ہے۔ میں بیٹا نسخے کے ریویو میں لکھ چکا ہوں کہ ابنٹو کا یہ نسخہ کم از کم میرے کمپیوٹر پر تو ویژول ایفکٹس بائی ڈیفالٹ بحال کردیتا ہے۔ اور یہ نئے ایفکٹس بے حد دل خوش کن ہیں۔

انسٹالیشن انتہائی سادہ اور اور برق رفتار تھی محض پندرہ منٹ میں نئے نسخے کی تنصیب مکمل ہوئی۔ انسٹالیشن کے بعد جب لاگ آن ہوا تو مسئلہ یہ درپیش آیا کہ ابنٹو کے اس تازہ اور بے حد بے چینی سے انتظار کئے گئے نسخے کی ریپوزیٹریز ڈاؤن تھیں۔ جس کی وجہ سرورز پر پڑنے والا بے تحاشا لوڈ تھا۔ اس لئے آج سویرے ریپوزیٹریز اپڈیٹ کریں، اردو سپورٹ نصب کی اور یہ رہا میں آپ کے سامنے۔

ابنٹو کے اس نئے نسخے میں فائر فوکس تین کا بیٹا نسخہ ڈیفالٹ براؤسر ہے۔ مجھے اس کا عادی ہونے میں تھوڑی دشواری ہورہی ہے۔ ایک اور مسئلہ نئے فائر فوکس میں گوگل براؤسر سائنک کا نصب کرنا ہے۔ سنا ہے اس کی کوئی جگاڑ موجود ہے جس سے میں فی الحال نا واقف ہوں۔ براؤسر سائنک پلگ ان میرے لئے یوں ضروری ہے کہ میں گھر پر اور کام پر اپنے براؤسر کی سیٹنگز کو ہم آہنگ رکھنا چاہتا ہوں۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ میں دونوں جگہوں سے ایک ہی براؤسر ایک ہی سیٹنگز ، بک مارکس اور پاسورڈز وغیرہ کے ساتھ استعمال کرتا ہوں اور اس وقت کی بہت زیادہ بچت ہوجاتی ہے۔

ابنٹو کا یہ نیا نسخہ تقریبا ہر اس شخص کے لئے تجویز کیا جاتا ہے جو لنکس کو آزمانا چاہتا ہے۔ کام کی جگہوں کے لئے بھی یہ نسخہ بے حد کارآمد ہے کیونکہ یہ تین سال تک سپورٹڈ ہے۔ اگر آپ کسی ایسی آپریٹنگ سسٹم کی تلاش میں ہیں جو آپ کو وائرس سے بہتر بچاؤ دے، جہاں آپ کنفگریشن میں کم سے کم وقت صرف کریں اور کام پر زیادہ سے زیادہ دھیان دے سکیں، اگر آپ ایسا آپریٹنگ سسٹم چاہتے ہیں جہاں سب کچھ مفت ہو اور آپ کو کوئی بھی مسروقہ سوفٹویر استعمال نہ کرنا پڑے، اگر آپ بہتر کمپیوٹنگ صلاحیتیں سیکھنا چاہتے ہیں، اگر آپ ایک آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ایک برادری کے رکن بننا چاہتے ہیں جہاں سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ تو بس آپ کی تلاش ختم ہوچکی ہے ابنٹو ہارڈی ہیرون ہی آپ کے تمام سوالات کا جواب ہے۔ آج نصب کریں اور تین سال تک نہ ریفارمٹ کریں، نہ وائرس اسکینر چلائیں، نہ اسپائی ویر اور ٹروجنز کی فکر کریں۔ بس مزے کریں۔

ابنٹو حاصل کرنے کا سب سے آسان نسخہ اسے ڈاؤنلوڈ کرنا ہے۔ تاہم اگر آپ انتظار کرسکتے ہیں تو شپ اٹ کے ذریعے مفت سی ڈیز بھی منگوا سکتے ہیں۔

کرن اور جارج

بتاریخ: 11 اپریل 2008

kiran-and-george.jpg

جارج کا پاکستان کے جارج نے کرن سے شادی کرکے پاکستان میں ہی گھر بسالیا ہے۔ آج کل دونوں میاں بی بی آج ٹی وی پر کرن اینڈ جارج کے نام سے ایک صبح کا شو کرتے ہیں۔ شروع میں یہ مجھے بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔ ایک تو جارج کی خراب اردو اور اس کی اردو زدہ انگریزی کافی ناگوار معلوم ہوتی تھی۔ دوسرا یہ کہ دونوں میزبانوں میں اکثر کوآرڈینیشن کا فقدان نظر آتا تھا۔ لیکن اتفاق کچھ ایسا ہے کہ رات کو جب میں ٹی وی کے سامنے بیٹھتا ہوں تو یہ شو آرہا ہوتا ہے اور میری نظر اس پر پڑتی رہی۔ اس دوران انہوں نے ٹینا ثانی کو مدعو کیا وہ شو مجھے بہت پسند آیا۔ اس کے بعد میں نے محسوس کیا کرن اور جارج نہ صرف یہ کہ ایک تفریحی شو کرتے ہیں بلکہ وہ یہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ ان کا شو معاشرے میں کسی اصلاح ،کسی بہتری کا سبب بنے۔ جو ایک لائق ستائش کام ہے۔

جارج اور کرن کے شو میں مشہور شخصیات کے علاوہ ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو عام سے ہوتے ہیں مگر زندگی انہیں کسی بڑے سانحے کے سامنے لا کھڑا کردیتی ہے۔ اور وہ عام سے لوگ نہایت بہادری اور دلیری سے ان حالات سے لڑتے ہیں۔ جیسے انہوں نے آٹزم نامی بیماری میں مبتلا بچے منیب کے والدین کو مدعو کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے حریم کو مدعو کیا جو صرف سترہ سال کی ہے اور جس نے اپنی زندگی کے پچھلے چند سال کینسر سے لڑنے میں گزارے۔ اس کے علاوہ اسکولوں کے اساتذہ، سماجی تنظیموں کے نمائندگان، اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اکثر ان کے مہمان ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے لوگ یقینا انہی گنی چنی مشہور شخصیات کو مختلف مارننگ شوز میں مہمان دیکھ دیکھ کر اکتا جاتے ہونگے اور ایسے لوگوں کے لئے کرن اور جارج کا شو اچھا ہے کیونکہ یہ مختلف ہے۔ اس میں گفتگو برائے تفریح نہیں بلکہ گفتگو برائے ابلاغ ہوتی ہے جو نہ صرف دلچسپ بھی ہوتی ہے بلکہ اکثر کافی اثرپذیر بھی۔

کرن اور جارج یو ٹیوب پر

کرن اور جارج : بلاگ

ٹینا ثانی کرن اور جارج پر:

بدی کو کوسیں، بدنام کو نہیں

بتاریخ: 10 اپریل 2008

مجھے اپنے ہموطنوں سے شکوہ ہے کہ اکثر وہ انجانے میں مہاجروں پر الزامات لگاتے ہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ وہ ایسا بالکل نہیں کرنا چاہتے لیکن کراچی کے فسادات کا تذکرہ ہو تو لوگ خودبخود شہر کو اردو بولنے والوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں۔ سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ مہاجر ایم کیو ایم جیسی گھٹیا جماعت کو کیوں سپورٹ کرتے ہیں۔ مہاجر خود کو مہاجر کیوں کہلواتے ہیں۔ مہاجر ایسے، پنجابی ویسے، پختون ویسے۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں مہاجر ہونے کو کوئی بے عزتی نہیں بلکہ فخر کی بات سمجھتا ہوں۔ مگر ایسے تذکروں سے مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میری قومیت پر سوال اٹھایا جارہا ہو۔ جیسے میرے مزاج کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کا مزاج سمجھا جارہا ہو۔ اور میری سوچ کو قومی سوچ کے برخلاف سمجھا جارہا ہو۔

میں اکثر لکھتا ہوں کہ اگر کراچی کے حالات کا ذکر ہو تو لامحالہ اس تذکرے سے لسانیت اور تعصب کی بو آنے لگتی ہے۔

عموما ایسے تذکروں میں آپ دیکھیں گے کہ آدھے مہاجر ایم کیو ایم کی صفائی دینے لگتے ہیں اور باقی آدھے یہ صفائی پیش کرنے لگتے ہیں کہ ایم کیو ایم مہاجروں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ جیسے ہم ہی چور ہوں، ہم ہی ملزم ہوں اور ہم ہی پر مقدمہ چلایا جارہا ہو۔ آخر ہم صفائی کیوں پیش کریں؟

یہاں حالات خراب کرنے کے لئے کسی کو محض تیس چالیس غنڈوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف اس شہر میں روزگار کی فراوانی ہے وہاں دوسری طرف یہاں روزانہ پورے ملک سے سینکڑوں غیر ہنرمند، بے پڑھے لکھے اور انتہائی پسماندہ علاقوں کے نوجوان خواب لیکر آتے ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کے علاوہ ہیں جو اس شہر میں پہلے سے رہ رہے ہیں۔ ان کے پاس روزگار نہیں، کوئی اعلی نظریات نہیں، کرنے کو کوئی قابل ذکر کام نہیں۔ یہ لوگ ایسے گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں ان فسادات میں بطور پٹرول استعمال کرتے ہیں۔ یہ گروہ بھرتی کرتے وقت کبھی بھی مہاجر، سندھی، پنجابی، پختون یا بلوچ نوجوان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ اور ان غنڈوں میں آپ کو ہر قومیت کے لوگ ملیں گے۔ ناراض، بے روزگار اور خود کو منوانے کی خواہش رکھنے والے ان نوجوان غنڈوں کی مارکیٹ سے انہیں ایم کیو ایم ہی نہیں کوئی بھی سیاسی جماعت، جرائم پیشہ گروہ، ایجنسیاں یا لسانی تنظیم کبھی بھی کرائے پر حاصل کرسکتی ہے۔

بد اچھا اور بدنام برا، سارے فساد کا الزام لوگ اسی جماعت کے سر ڈال دیتے ہیں جو بدنام ہے۔ بلاشبہ وہ جماعت غنڈہ گردی اور دہشت گردی میں ملوث رہی ہے۔ لیکن اگر ہم حقائق سے نظریں چراتے رہیں گے اور الزام تراشی کے لئے آسان ترین شکار پر ضرب لگاتے رہیں گے تو ہم کبھی مسائل سلجھا نہیں سکیں گے۔

ان واقعات کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جب آصف زرداری نائن زیرو پہنچتے ہیں۔ جہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی جو ہمیشہ ایک دوسرے کو نظریاتی حلیف قرار دیتے رہے ہیں، اپنے پرانے اختلافات سے دست بردار ہونے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ ایم کیو ایم نوے کی دہائی میں ہونے والے اپنے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل پر پیپلزپارٹی سے معافی نامے کا مطالبہ ترک کردیتی ہے اور پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو بارہ مئی کے واقعے پر معاف کردیتی ہے۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو غیرمشروط تعاون اور حمایت کا اپنا وعدہ دہراتی ہے۔ اور اگلے دن سے عجیب و غریب واقعات کا تسلس شروع ہوجاتا ہے۔

اسمبلی میں تین نشستیں رکھنے والی ایم ایم اے کو وزارت دی جاتی ہے۔ ق لیگ کے لوٹوں کو ن لیگ میں قبول کیا جاتا ہے۔ مقدمے معاف ہوتے ہیں، جج رہا ہوتے ہیں۔ ہر طرف مفاہمت کا دور دورہ ہے۔ تو اس مفاہمت میں قومی اسمبلی میں انیس نشستیں رکھنے والی جماعت کو شامل کرنے میں کس کو اعتراض ہے اور کیوں؟ جب کہ ایم کیو ایم کی مفاہمت صرف پیپلز پارٹی سے ہے نہ کہ حکمران جماعت کے تمام اتحادیوں سے۔ سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے قریب آنے سے نقصان کس کا ہے؟

کراچی کی مختصر سی تاریخ حادثات اور فسادات سے بھری پڑی ہے۔ لسانی اور سیاسی جھگڑوں کے حوالے سے یہ شہر ہمیشہ زخم کھاتا رہا ہے۔ ہر تازہ زخم کے بعد یہ شہر پھر بھی اپنی ترقی کا سفر جاری رکھتا ہے۔ اور سب کی طرح مجھے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں کسی دن یہ زخموں سے اتنا چھلنی نہ ہوجائے کہ پھر اٹھ نہ سکے اور اس کی کہانی ایک بے تکے موڑ پر ختم ہوجائے۔

کسی حال میں چین نہیں

بتاریخ: 07 اپریل 2008

میرا گھر سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ کے بالکل قریب واقع ہے اسلئے ہماری بجلی باقی شہر کے مقابلے میں ذرا کم جاتی ہے۔ مثلا اگر پورے شہر میں چار گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے تو ہمارے ہاں تین گھنٹے کی ہوگی۔ مگر عجیب بات ہے، نامعلوم کے ای ایس سی والوں کو کیا ہوگیا ہے، گذشتہ قریبا ایک ہفتے سے ہمارے گھر کی بجلی نہیں گئی۔ پورے شہر میں لوڈشیڈنگ میں کافی کمی آگئی ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ادائیگی کے بعد کے ای ایس سی کو واپڈا سے مزید بجلی ملنے لگی ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے یہ سب ناٹک محض میرے پیسے خرچ کرانے کو رچایا گیا تھا۔

میری والدہ جو کچھ عرصے سے علیل ہیں وہ اندھیرے سے گھبرارہی تھیں تو میں نے سوچا کہ اب یو پی ایس لینا ہی پڑے گا۔ آگے اتنی لمبی گرمیاں ہیں۔ میں یو پی ایس لے آیا۔ تنصیب کرنے والے اناڑی کاریگروں نے بڑا تنگ کیا انہیں وائرنگ کرنے کا ذرا سا سلیقہ نہیں تھا۔ اتنا خون جلا کہ نہ پوچھیں، سوچ رہے تھے کہ چلو اب جب لوڈشیڈنگ ہوگی تو ذرا دیر کو پنکھا چلا کر یہ سب محنت وصول ہوجائیگی۔ مگر ہماری راحت سے تو کے ای ایس سی والوں کو بیر ہے۔ اگلے ہی روز انہوں نے پیپکو کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کردی اور تین سو میگاواٹ بجلی بحال کروالی۔ مجھے اگر خبر ہوتی کہ میرے یو پی ایس سے قومی ادارے کو اتنی بڑی رقم کی وصولی ہوگی تو کب کی یہ قربانی دے چکا ہوتا۔ مگر اب تو میں انتظار کررہا ہوں کہ کب بجلی جائے تو میں یو پی ایس سے جلنے والے الیکٹرک سیور بلبوں کی ٹھنڈی میٹھی روشنی سے لطف اندوز ہوں۔ امید ہے کے ای ایس سی والے زیادہ دن انتظار نہ کرائیں گے۔

اس کے چھوٹے سائز پر مت جانا

بتاریخ: 31 مارچ 2008

ہارڈی ہیرون ۔ ابنٹو کا اگلا نسخہ

بتاریخ: 31 مارچ 2008

Compiz Visual Effects in Ubuntu
آج میں نے ابنٹو کے آنے والے نسخے ہارڈی ہیرن کا بیٹا نسخہ ڈاؤنلوڈ کرا اور اپنے کمپیوٹر پر نصب کرکے دیکھا۔ میں عموما بیٹا نسخہ جات نصب کرکے نہیں دیکھتا۔ لیکن ابوشامل کی پوسٹ سے مجھے تحریک ملی۔ ہارڈی کی پہلی خوبی تو یہ ہے کہ یہ طویل مدتی معاونت (لانگ ٹرم سپورٹ) نسخہ ہے۔ یعنی اگر اسے اپریل میں اپنے کمپیوٹر میں نصب کریں تو اگلے تین سال تک اس کی ابنٹو معاونت اور سیکیوریٹی اپڈیٹس دستیاب ہوتے رہیں گے۔ اور کبھی کوئی جینئوئن سوفٹویر ریسٹریکشن کا آئیکون آپ کو منہ نہ چڑا سکے گا۔

لیکن ابنٹو کو صرف اسلئے نصب نہ کریں کہ یہ مفت ہے۔ بلکہ درحقیقت ابنٹو بہتر بھی ہے۔ مثال کے طور پر ونڈوز وسٹا ہو یا ایکس پی دونوں میری چپ سیٹ ڈیٹکٹ نہیں کرپاتے اور اس کے لئے مجھے انسٹالیشن کے بعد ونڈوز اپڈیٹ سے ڈرائیور ڈاؤنلوڈ کرنا پڑتے ہیں۔ ابنٹو گٹسی اور ہارڈی دونوں میرے ہارڈویر کو ڈٹیکٹ بھی کرتے ہیں اور مکمل سپورٹ بھی۔ گٹسی پہلے میرے گرافکس کارڈ کا بھرپور فائدہ نہ اٹھاتا تھا لیکن ہارڈی بائی ڈیفالٹ میرے لئے کمپز این ایبل رکھتا ہے اور میں وسٹا جیسے ویژول ایفکٹس کا لطف اٹھا پاتا ہوں۔ کبنٹو جو کہ ابنٹو کا کے ڈی ای والا نسخہ ہے اس میں تو ویژول ایفکٹس اور بھی اعلی و معیاری ہیں۔ ابنٹو کا نیا ورژن۔ لنکس کرنل کا نسبتا نیا نسخہ استعمال کرتا ہے یہ نسخہ خصوصا میرے کمپیوٹر کے لئے اچھا ہے۔ کیونکہ میرا کمپیوٹر کور ٹو ڈیو ہے اس لئے لنکس کے پچھلے نسخہ جات میرے ہارڈ ویر کا بھرپور استعمال نہ کرپاتے تھے۔ اب میرے کمپیوٹر کا تمام ہارڈویر اپنی صلاحیت کے مطابق استعمال ہوتا ہے جس سے ہارڈی نہایت سبک رفتاری سے تمام کام انجام دیتا ہے۔ بوٹ اپ ٹائم اور شٹ ڈاؤن بھی نہایت تیزی سے ہوتا ہے۔

ہارڈی میں ایک اور نئی چیز ہارڈویر ٹیسٹنگ وزارڈ ہے۔ جو آپ کے ہارڈ ویر کو ڈیٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک رپورٹ تیار کرتا ہے جو آپ اپنے لانچ پیڈ اکاؤنٹ پر شائع کرسکتے ہیں۔ وہاں سے ابنٹو کمیونٹی کو آپ کے ہارڈویر کی سپورٹ بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور آپ کو فوری طور پر کوئی عارضی جگاڑ بھی بتائی جاسکتی ہے۔

میری طرح اور بھی کئی صارفین ریلیز نوٹس پڑھ کر یہ سمجھے تھے کہ شاید انک اسکیپ بائی ڈیفالٹ نصب ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے فائنل ریلیز نسخے میں یہ بائی ڈیفالٹ نصب ہو۔

ہارڈی میں گنوم بٹ ٹورنٹ کے بجائے ٹرانسمیشن نصب ہے۔ اور ڈسک برننگ کے لئے براسیرو۔ اس کے علاوہ گنوم کا فائل براؤسر نوٹیلئیس بھی اب زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ اس نسخے میں یوزر اکاؤنٹس اور ان کے اختیارات کے انتظام کو اور بھی بہتر بنادیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکیوریٹی کو مزید بہتر بنانے کے لئے ایک کمانڈ لائن سے چلنے والی فائروال بھی نصب شدہ ہے۔

میں زیادہ تر وی ایل سی میڈیا پلئیر استعمال کرتا ہوں۔ میرے خیال میں ابنٹو کو گنوم پر بھی ایمیروک جیسا کوئی اطلاقیہ رکھنا چاہئے۔ ردھم باکس بھی اچھا ہے لیکن عام طور پر موسیقی سننے والے ایمیروک کو پسند کرتے ہیں مگر چونکہ ایمیروک کے ڈی ای کا حصہ ہے تو گنوم پر اسے استعمال کرنے میں زیادہ مزا نہیں آتا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ میں فائر فوکس 3 کا بیٹا نسخہ استعمال کررہا تھا۔ فائر فوکس کے اس نسخے میں ابنٹو نے کئی تبدیلیاں کی ہیں، جیسے ڈیفالٹ تھیم بدل دیا گیا ہے، کچھ پلگ ان بائی ڈیفالٹ نصب ہیں، اور کئی چھوٹی موٹی تبدیلیاں ہیں، لیکن فائر فوکس کا یہ نسخہ صحیح معنوں میں ابنٹو میں درست بیٹھتا نظر آتا ہے۔

اردو سپورٹ دستیاب ہے اور اسے این ایبل کرنے کا طریقہ کار وہی ہے جو گٹسی کے لئے تھا۔ ابنٹو کے ہر نسخے میں اردو بہتر سے بہتر نظر آتی ہے۔ اور اب تک میں نے جتنی لنکس ڈسٹریبیوشنز استعمال کی ہیں ان میں سب سے بہتر اردو سپورٹ ابنٹو میں موجود ہے۔ ابنٹو میں اردو فونٹ ونڈوز کے کسی بھی نسخے سے بہتر دکھائی دیتے ہیں۔ اور ابنٹو میں اردو کی تنصیب ونڈوز سے کہیں زیادہ آسان ہے (بشرطیکہ آپ ہدایات پر من و عن عمل کریں)۔

اسکرین شاٹس:

Ubuntu 8.04 Hardy Heron Screenshot

Ubuntu 8.04 Hardy World Time Applet

خوشامدی صحافی اور بڑھکیں

بتاریخ: 26 مارچ 2008

کچھ لوگوں کو خوشامد بڑی پسند ہوتی ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشامدیوں کو بہت پسند ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز گروپ کے سربراہ نواز شریف کو خوشامد پسند ہو کہ نہ ہو، مگر خوشامدیوں کو وہ بہت پسند ہیں۔ وہ جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اخبارات ان کے جانثاروں کی بڑھکوں سے سجے نظر آنے لگتے ہیں۔ نذیر ناجی صاحب ان کے پچھلے ادوار میں ان کی بڑی توصیف کیا کرتے تھے اور ایک عطاالحق قاسمی صاحب۔ ناجی صاحب تو سکہ بند صحافی لوٹے ہیں جو اکثر طاقت کے توازن کی طرف لڑھکتے رہتے ہیں۔ لیکن قاسمی صاحب نواز شریف کے ایک دیرینہ جانثار حمایتی ہیں۔ وہ ایک کالم نویس اور مشہور مزاح نگار بھی ہیں۔ موصوف نواز شریف کی پچھلی حکومت میں ناروے کے سفیر رہ چکے ہیں۔ ان کے کالم انتہائی جانبدارانہ ہوتے ہیں۔ مجھے ان کے لکھنے کا انداز بہت پسند ہے۔ لیکن کبھی کبھی وہ اپنے پسندیدہ لیڈر کی حمایت، تعریف اور توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ایسے ملاتے ہیں کہ پڑھنے والے کو شرم محسوس ہونے لگتی ہے کہ وہ اس عظیم الشان لیڈر کا حامی کیوں نہیں ہے۔ ایسا کرتے وقت بعض اوقات ان کی زبان عامیانہ ہوجاتی ہے اور وہ صحافتی اخلاقیات اور اردو زبان کی روایتی شائستگی اور شگفتگی کو بھی یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔

ہوا یوں کہ صدارتی ترجمان راشد قریشی صاحب نے بیان جاری کیا کہ:

۔نواز شریف کے علاوہ کسی سے بھی پوچھ لیا جائے سب کہتے ہیں کہ وہ صدر کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیا ر ہیں۔اس لیے نواز شریف کو بھی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔

جس پر نواز شریف نے جوابی بیان داغا کہ:

صدارتی ترجمان حیثیت دیکھ کر بات کریں۔ آمریت دفن کرنے کیلئے جلد قانون سازی کرنا ہوگی.

اگر حیثیت کی بات ہورہی ہے تو نواز شریف پر یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ وہ عوامی نمائندے ہیں کوئی شہنشاہ نہیں کہ جس کی حیثیت تنقید سے بالاتر ہو۔ یہ نیا پاکستان ہے، اور اب یہاں تنقید اسی طرح کی جاتی ہے۔ خود پرویز مشرف پر آٹھ سالہ دور حکومت میں لوگوں نے جی بھر کر تنقید کی ہے۔ برا بھلا کہا ہے اور برملا ملکی ٹی وی چینلز پر کہا ہے اس لئے نواز شریف کو بھی تیار رہنا ہوگا اس قسم کی تنقید سننے اور اس کا مدلل جواب دینے کے لئے۔ لیکن یہ بنیادی بات ہمارے کالم نویس عطاالحق صاحب کو بھی سمجھ نہیں آئی اور آج کے اخبار میں انہوں نے اپنے چہیتے لیڈر کی توصیف میں ایک اور کالم لکھ مارا۔ :

چوہدری نثار علی کی پریس کانفرنس بھی ٹی وی چینل پر براہ راست دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کا لہجہ بتاتا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف بطور صدر چند گھڑی کے مہمان ہیں، آپ انہیں مہمان اداکار بھی کہہ سکتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے صدارتی ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کی جس طرح دُھنائی کی، اس حوالے سے He asked for itوالی بات ہی کہی جا سکتی ہے کیونکہ موصوف نے پاکستانی عوام کے مقبول قائد میاں نواز شریف کے لئے جو زبان استعمال کی تھی، اس کے بعد یہ ان کا ”حق“ بنتا تھاکہ انہیں ان کی اوقات یاد دلائی جاتی.

چلیں لگتا ہے عطاالحق قاسمی صاحب، جو ہمارے دیگر معزز شعرا کی طرح یورپی اور امریکی مشاعروں کے شیدائی ہیں، اب ان کی سفارتی ذمہ داریاں شروع ہوا ہی چاہتی ہیں۔ لیکن اگر اسطرح صدر پاکستان کو اوقات یاد دلانے پر واہ واہ کرنے والے لوگ سفارتکار بنیں گے۔ تو نوازشریف وہی غلطی دہرائیں گے جو وہ پچھلے ادوار میں دہرا چکے ہیں۔ اور کالم نویسوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ایمانداری اور انصاف جس کی توقع وہ معاشرے سے رکھتے ہیں، معاشرہ بھی ان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری اور غیرجانبداری سے انجام دیں گے۔

بھلے دنوں کی یاد

بتاریخ: 11 مارچ 2008

wapda_vs_kesc.gif

آتا ہے یاد مجھ کو وہ گزرا ہوا زمانہ کہ جب ہمارے گھر میں دن کے وقت بھی ٹیوب لائٹیں جلا کرتی تھیں۔ جب ہم ہر وقت انٹرنیٹ استعمال کرسکتے تھے۔ ہماری ماسی جس دن اس کا موڈ ہوتا واشنگ مشین لگالیتی تھی۔ ہم استری شدہ کپڑے پہنا کرتے تھے۔ اور تمام فارغ وقت امی کی دھمکیوں کے باوجود ایرکنڈیشنر بند نہ کرتے تھے۔ آہ وہ بھی کیا دن ہوا کرتے تھے۔

اب تو یہ عالم ہے کہ دن میں ہر چار گھنٹے بعد دو گھنٹے بجلی غائب۔ جلدی جلدی نیٹ یوز کرتے ہیں۔ کچھ لکھیں تو ہر ساٹھ سیکنڈ بعد محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ پانی کی موٹر چلا کر جلدی جلدی ٹنکیاں بھرتے ہیں۔ ماسی بھی بجلی دیکھتی ہے تو فورا واشنگ مشین لگالیتی ہے۔ کسی کو کپڑے استری کرنا یاد آتا ہے تو کسی کو اپنا پسندیدہ ٹی وی پروگرام۔

موسم ابھی اتنا گرم نہیں ہوا اور ہم کراچی والے سوچ رہے ہیں کہ گرمیاں کیسے گذاریں۔ جبکہ احباب یو پی ایس، گیس کے جنریٹر اور اس قسم کی چیزیں خرید رہے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے کمرے کی چھت پر رسی سے چلنے والا پنکھا لگوالوں۔ آپ نے شاید یہ کسی پرانی فلم میں دیکھا ہو۔ اس میں ایک ہاتھ سے بنا ہوا بڑا سے پنکھا چھت سے لگا ہوتا ہے اور ڈوری کھینچیں تو چلتا ہے۔ موم بتی کی روشنی کا جو رومانی تاثر ہے وہ یقینا اس پنکھے سے دوبالا ہوجائے گا۔ فوم کے گدوں کی جگہ چارپائیاں ڈال لیتے ہیں کہ وہ زیادہ ٹھنڈی ہونگی۔ اور پرانی وضع کے اونچے ململ کے کرتے سلوالیتے ہیں۔ کیسا مزہ آئے گا جب ہمارا کمرہ شمعوں سے جگمگائے گا، ہاتھ سے چلنے والا پنکھا ہوگا اور ہم سفید براق کپڑوں میں ملبوس کھری چارپائیوں پر لیٹے۔ ہاتھ میں کاغذ قلم تھامے اپنے بلاگ کی اگلی پوسٹ لکھ رہے ہوں گے۔ زبردست۔

میری دادی مرحومہ بہت پرانے دنوں کے قصے سناتی تھیں تو بتایا کرتی تھیں کہ گرچہ آس پاس کے تمام محلے میں بجلی موجود تھی مگر ان کے گھر تک نہیں پہنچی تھی تو وہ لالٹین کے روشنی میں رات کا کھانا کھایا کرتے تھے۔ میری دادی اکثر گرمیوں میں بھی بغیر پنکھے کے ہی سویا کرتی تھیں کہ پنکھے کی ہوا سے ان کے جسم میں درد ہوجاتا تھا۔ ہمیں یاد نہیں ہم نے انہیں کبھی رنگین کپڑے پہنے دیکھا ہو۔ ہمیشہ وہی ایک جیسے سفید کرتے جن پر الگ الگ طرح کے سونے کے بٹن لگے ہوتے تھے۔ یہ بٹن بڑی عزت اور وقار کی علامت تھے اور میری دادی کی متاع حیات تھے۔ یہ بٹن انہیں بیتے دنوں کی یاد دلاتے تھے (میری دادی کے انتقال کے بعد ان بٹنوں کی گمشدگی اور ان پر ہونے والی لڑائیاں الگ موضوع ہیں کبھی یاد دلائیے گا تو یہ قصہ بھی سناؤں گا)۔ اور سفید چوڑی دار پاجامہ جیسے دیکھ کر میں اکثر سوچتا تھا کہ یہ کیسے پہنا جاتا ہوگا۔ مجھے یہ تجربہ اپنی روزہ کشائی کے دن ہوا جب میں نے پہلی بار چوڑی دار پاجامہ پہنا تب مجھے احساس ہوا کہ میری دادی روزانہ کتنی سخت مشقت انجام دیتی ہیں۔ ان کے ہاتھ اور پیر سردی ہو یا گرمی ہمیشہ مہندی سے رنگے ہوتے تھے۔ ان کے سر کے تمام بال سفید تھے جن پر وہ کبھی مہندی نہیں لگاتی تھیں۔ حالانکہ ان کے شوہر زندہ سلامت تھے۔ مگر وہ سمجھتی تھیں کہ اب چونکہ وہ بوڑھی ہوگئی ہیں تو انہیں ایسی ہی وضع اختیار کرنی چاہئے۔ اللہ انہیں جنت بخشے بڑی نیک عورت تھیں۔ بڑی صابر اور سدا کی شکرگزار۔

میں سوچتا ہوں کہ میں بھی اپنے پوتوں کو کچھ ایسے ہی قصے سنایا کروں گا۔ ان دنوں کے کہ جب ہمارے گھر میں ٹیوب لائٹیں جلا کرتی تھیں۔ جب ہم ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانا کھایا کرتے تھے۔ جب ہم ڈی وی ڈی پر فلمیں دیکھا کرتے اور انٹرنیٹ پر بلاگ لکھا کرتے تھے۔ اور ہمارے گھر میں اتنے آلات بجلی تھے جتنے اب قومی عجائب گھر میں بھی نہیں۔

کارٹون: روزنامہ جنگ کراچی ایڈیشن ۱۱ مارچ ۲۰۰۸

ویکیپیڈیا کی تصاویر اور ڈنمارک کے خاکوں کا فرق

بتاریخ: 02 مارچ 2008

پاکستانی ان دنوں ڈنمارک میں چھپنے والے کارٹونوں کے سبب خفا ہیں۔ مجھے اس موضوع سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخصیت میرے لئے قابل احترام ہے۔ تو میری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کوئی اس شخصیت کی تضحیک نہ کرے۔ ان کارٹونوں کو شائع کرنے کا مقصد ہی شرانگیزی اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا تھا۔ ہمیں اس شرانگیزی کا خاتمہ مزید شر پھیلا کر نہیں کرنا چاہئے۔ اور نہ کسی کو اجازت دینی چاہئے کہ وہ ہمارے مذہبی جذبات کو مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرے۔ احتجاج کے تمام غیرمتشدد، مہذب، اور اثرانگیز طریقے اختیار کرے جائیں۔ مگر دشمن کے جھانسے میں نہ آئیں۔

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ ویکیپیڈیا پر محمد ﷺ کے بارے میں مضمون پر چند پینٹینگز کی تصاویر کا ہے۔ میرے خیال میں ایسے پاکستانی جنہیں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں، یا جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں وہ ان دنوں معاملات کو ایک نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ یعنی ان کے مذہب اور عقائد کی توہین باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی جارہی ہے۔ لہذا میں نے سوچا کہ اس بارے میں کچھ لکھوں۔ ویکیپیڈیا کے مضمون پر موجود آپ ﷺ کی تصاویر کا مقصد ڈنمارک کے کارٹونوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ تصاویر توہین آمیز نہیں۔

ان میں سے ایک پینٹنگ میں محمد ﷺ صحابہ کرام کو مہینوں کے بارے میں بتارہے ہیں۔ یہ تصویر ابو الریحان البیرونی کی کتاب الآثار الباقية عن القرون الخالية کے قدیم نسخے میں موجود تھی جسے بعد ازاں سترھویں صدی کے نسخے میں نقل کیا گیا۔ یہ نسخہ اب فرانس کی قومی لائبریری کی ملکیت ہے۔

دوسری میں آپ ﷺ فرشتوں اور صحابہ کرام کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس تصویر میں بھی آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نہیں دکھایا گیا ہے۔

اور تیسری میں آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نہیں دکھایا گیا ہے یہ تصویر استنبول کے توپ کاپی عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے۔

پھر بھی اگر آپ کو یہ تصاویر نا مناسب معلوم ہوتی ہیں تو ان تصاویر کے خلاف اپنے احتجاج کو ڈنمارک کے کارٹونوں کے خلاف احتجاج سے نہ ملائیں۔ ڈنمارک کے کارٹون سراسر شرانگیزی ہے جس کا مقصد ہی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنا ہے۔ لیکن ویکیپیڈیا پر موجود تصاویر شرانگیز نہیں بلکہ تاریخی اور علمی اہمیت کی دستاویزات کی تشبیہہ ہیں۔ آپ ان سے اختلاف کا اظہار کریں اور پٹیشن پر اپنے تاثرات ضرور درج کریں۔ لیکن اس معاملے کو ڈنمارک کے معاملے جیسا نہ سمجھیں۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے سندھ ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس کے انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان روکنے اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کی درخواست دائر کی ہے۔

روزنامہ امت میں ڈاکٹر اختیار بیگ کا انٹرویو۔ (شکریہ می)

پیپلز پارٹی نے کراچی کے چار حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سوالات

بتاریخ: 19 فروری 2008

  • کیا نواز شریف بے نظیر کے قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کی حمایت کریں گے؟
  • کیا زرداری ججوں کی بحالی کے نواز شریف کے مطالبے پر عمل درآمد میں ساتھ دیں گے؟ یا وہ عدلیہ کی بحالی کے بجائے عدلیہ کی آزادی کی گردان جاری رکھیں گے؟
  • صدر پرویز مشرف کا مستقبل میں کیا کردار ہوگا؟
  • کیا صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو حکومت سازی میں شامل کرے گی؟
  • دہشت گردی کے خلاف جنگ کا کیا لائحہ عمل طے ہوگا؟

کچھ اور سوالات بھی ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ مشرف لیگ کے دن ختم ہونے کے بعد بھی آگے بہت مشکل دن ہیں جن سے نکلنے کا راستہ ہمارے سیاستدانوں کو ڈھونڈنا ہوگا۔