بتاریخ: 23 June 2009

ایک طویل عرصے ایک انتہائی موذی مرض سے لڑنے کے بعد میری والدہ کا تیرہ جون کی شام کو انتقال ہوگیا۔ آپ سب سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔ مرحومہ کی عمر پچاس سال تھی، وہ ایک انتہائی صابر و شاکر خاتون تھیں۔ تمام عمر انہوں نے بھلے برے وقتوں کا عزت، وقار اور بہادری سے سامنا کیا۔ انہوں نے اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ہمیشہ عزت و وقار اور بہادری سے جینے کی نصیحت کی۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی اچھی باتیں، ان کا سکھایا ہوا جینے کا ڈھنگ، ان کی نصیحتیں اور ان کی یادوں کا ایک بیش قیمت خزانہ ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔

متاثرین سوات کی مدد کریں مگر مدد کو کارآمد بنائیں

بتاریخ: 17 May 2009

سوات کے متاثرین کی مدد کے لئے الخدمت ویلفئر سوسائٹی سے رابطہ کریں:

الخدمت ویلفئر سوسائٹی
مکان نمبر پانچ سو چار، قائدین کالونی،
نزد اسلامیہ کالج۔ کراچی۔

021 4912568
021 4918297

ان نمبروں پر کال کرکے آپ مقبول عالم، عبدالجبار یا فواد شیروانی سے بات کریں اور مزید معلومات حاصل کریں۔ الخدمت ویلفئر سوسائٹی نقد رقومات کے علاوہ دیگر امدادی سامان بھی جمع کررہی ہے جیسے:

اجناس خوردنی، جیسے آٹا، چاول، دالیں، چائے، چینی وغیرہ۔

پروسیسڈ خوراک ٹن پیک میں محفوظ شدہ

دوائیاں (براہ مہربانی پہلے فون کرکے معلوم کرلیں کہ کن دوائیوں کی زیادہ ضرورت ہے)۔

فرشی دریاں، چٹائیاں۔

لباس مردانہ زنانہ اور بچکانہ شلوار قمیض۔

صابن، نیپکن، سینیٹری پیڈ، ناخن تراش، کنگھے، پاؤں میں پہننے کی چپلیں اور سلیپر وغیرہ۔

اگر آپ زیادہ مقدار میں سامان خرید کر دینا چاہتے ہیں تو قریبی کیمپ یا الخدمت سے براہ راست رابطہ کریں۔

05/17/2009

روزنامہ ڈان سے: کراچی پر طالبان کی آمد کا خوف

As the Pakistan military intensifies its attacks in the northwest and the US keeps launching missiles there, more insurgents are seeking safety in Karachi and other urban areas, militants said.

‘We come in different batches to Karachi to rest and if needed, get medical treatment, and stay with many of our brothers who are living here in large numbers,’ 32-year-old militant Omar Gul Mehsud told The Associated Press while strolling along the beach, astonished at the vastness of the sea, which he’d never seen before.

Shah Jahan, a 35-year-old who said he commands about 24 Taliban fighters in the South Waziristan tribal region, told the AP that militants are scattering throughout Pakistan to avoid the US missile strikes. He said groups of 20 to 25 fighters would fight for a few months, then take leaves of up to one month in cities including Karachi.

کراچی کے منتخب عوامی نمائندے ایوانوں میں، اور عوام اپنے اپنے میڈیم کے ذریعے اس بات کا وادیلا کرتے رہے کہ سوات امن معاہدہ ملک کے لئے خطرناک ہے اس سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہونگے وہ ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کردیں گے۔ مگر یہ سب باتیں لادینوں کا غیر ملکی ایجنڈا کہہ کر نظر انداز کردی ہوگئیں۔ اور آج پندرہ لاکھ پاکستانی در بدر ہیں۔

کراچی کے عوامی نمائندے ایوانوں میں شور مچارہے ہیں کہ کراچی میں طالبان کی آمد کو روکا جائے مگر شاید ہمیں المناک داستانوں سے اپنی تاریخ سجانے کا شوق ہوچلا ہے۔

ابنٹو کا جانٹی جیکالوپ

بتاریخ: 08 May 2009

تاخیر کے ساتھ ابنٹو نو اعشاریہ چار المعروف جانٹی کا تجزیہ پیش خدمت ہے۔ ابنٹو ہر سال اپنے دو نسخے جاری کرتا ہے۔ ایک اپریل میں اور ایک اکتوبر میں۔ ہر چھ مہینے بعد نیا نسخہ جاری کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آزاد سوفٹویر کی دنیا میں اپڈیٹس بہت تیزی سے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر کبھی اوپن آفس کا نیا نسخہ جاری ہورہا ہے، تو کبھی فائرفاکس کا، کبھی گنوم کا اور کبھی کسی اور سوفٹویر کا۔ ہر نئے نسخے کے ساتھ نئے فیچر شامل ہوتے ہیں اور ان نئے فیچرز کو ابنٹو میں اچھی طرح انٹیگریٹ کرنے کے لئے آپریٹنگ سسٹم میں تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں ہر چھ ماہ بعد جاری ہوتی ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ آپ ہر چھ ماہ بعد اپنا آپریٹنگ سسٹم نئے نسخے پر اپگریڈ کریں۔ ابنٹو کی عام ریلیزز اٹھارہ مہینے اور طویل مدتی ریلیزز چھتیس مہینے تک سپورٹڈ ہوتی ہیں اور مفت میں ان کے سیکیوریٹی اپڈیٹس اپڈیٹ منیجر کے ذریعے حاصل کرتے رہتے ہیں اور آپ کا سسٹم اپ ٹو ڈیٹ اور محفوظ رہتا ہے۔

جانٹی میں ابنٹو نے کافی ساری نئی چیزیں متعارف کروائی ہیں۔ جیسا کہ بوٹ پراسیس کو حیرت انگیز حد تک برق رفتار بنانا۔ اس تبدیلی کے لئے کرنل میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں اور کچھ سسٹم یوٹیلیٹیز کو اس طرح آپٹی مائز کیا گیا ہے کہ وہ سسٹم کے بوٹ ہونے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ان تبدیلیوں سے ایک اور بہتری یہ آتی ہے کہ چند دنوں کے استعمال کے بعد بھی آپ کا بوٹ پراسیس سست نہیں ہوتا۔

اس نسخے میں ایک نیا نوٹیفیکیشن سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ جو کہ پچھلے نوٹیفیکیشن نظام سے زیادہ خوبصورت ہے۔ مگر اس میں چند خامیاں بھی ہیں جیسے آپ کی ٹرے اپلیکیشنز کو ٹرے سے چلانے، روکنے یا بند کرنے میں دشواری خصوصا پیجن انسٹنٹ مسینجر کو ترک کرنے یا منیج کرنے کی دشواری۔

ایک اچھا فیچر جو اس بار متعارف کرایا گیا ہے وہ ہے کمپیوٹر جنیٹر کا۔ یہ پروگرام آپ کے کمپیوٹر پر نصب شدہ پیکجز کا جائزہ لیتا ہے۔ ایسے پیکیجز جو پہلے کسی پروگرام کے لئے ضروری تھے مگر اب وہ کسی کام کے نہیں، ایسے پیکیجز جو ٹوٹے ہوئے ہوں، سسٹم میں ایسی تبدیلیاں جن سے سسٹم ٹوٹنے کا خدشہ ہو۔ ان سب چیزوں کو ٹھیک کرنے کا کام کمپیوٹر جنیٹر کرتا ہے۔ مگر ابھی بھی ابنٹو میں ایک ڈسک کلین اپ پروگرام کی ضرورت ہے جو کہ apt کی کیشے، غیر ضروری انٹرنیٹ فائلز، ردی اور دیگر فضول چیزیں باآسانی مٹانے اور ڈسک پر جگہ بنانے کا کام انجام دے سکے۔

اس نسخے میں اپڈیٹ منیجر کو کافی خود مختار کیا گیا ہے۔ اس حد تک کہ جب آپ کے لئے نئے سیکیوریٹی اپڈیٹس موجود ہوتے ہیں تو یہ نوٹیفیکیشن ایریا میں اطلاع دینے کے ساتھ ہی خودبخود نمودار ہوجاتا ہے۔ غیر اہم اپڈیٹس کی صورت میں یہ نمودار نہیں ہوتا مگر آپ جب چاہیں اپڈیٹس چیک کرسکتے ہیں۔ اس میں ایک بہتری یہ ہونی چاہئے کہ صارف کو یہ آزادی ہو کہ وہ اپڈیٹس کو مکمل خودکار کرسکے۔ یعنی بجائے اس کہ ہر بار وہ رضامندی ظاہر کرے۔ وہ اپگریڈ منیجر میں خود بخود اپڈیٹس انسٹال کرنے کا آپشن منتخب کرلے اسطرح جب بھی اہم سیکیوریٹی اپڈیٹس موجود ہوں تو وہ خودبخود انسٹال ہوجائیں۔

اتفاق سے اس مرتبہ میں جانٹی کے تین نئے نسخے آزما چکا ہوں۔ ایکس ابنٹو، کے ابنٹو، اور ابنٹو۔ اور اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں کہونگا کہ ایکس ابنٹو یا زبنٹو اس مرتبہ بہترین ڈسٹرو کے طور پر سامنے آئی ہے۔ گرچہ اس کی قابلیت استعمال اور آسانیت ابھی بھی اتنی بہتر نہیں مگر معقول حد تک اس میں بہتری کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی رفتار پچھلے نسخوں کے مقابلے میں بہتر بنائی گئی ہے۔ اگر آپ ابنٹو استعمال کرچکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں تو ایکس ابنٹو آزما کر دیکھیں۔ یہ بہت سادہ مگر کافی تیز ڈسٹرو ہے جس کے بیک اینڈ پر آپ کو ابنٹو کی بہترین ڈرائیور اور کوڈک سپورٹ بھی ملتی ہے۔

05/01/2009

کراچی میں تشدد کیوں؟ بی بی سی اردو پر احمد رضا کا تجزیہ حقیقی صورتحال کی قریب ترین عکاسی کرتا ہے۔

فسادات ایم کیو ایم کراچی

بتاریخ: 01 May 2009

اس بلاگ پر پچھلی کئی بلاگ پوسٹس میں اس کا ذکر تفصیل سے ہوچکا ہے۔ کراچی میں انتہاپسند تیزی سے فسادات کا بیچ بو رہے ہیں۔

جس طرح دنیا بھر کی برائیوں کا منبع یہودیوں کو بنادیا گیا ہے۔ ایسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف جتنی نفرت پاکستان کے دیگر علاقوں میں پائی جاتی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ لوگ اپنے حلقے کی سیاست کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہوں مگر کراچی میں ایم کیو ایم کے لرزہ خیز مظالم کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ سچ بھی ہوں مگر زیادہ تر حیرت انگیز پروپگینڈے پر مبنی ہوتی ہیں۔ جیسے یہ کہ کراچی میں پنجابی اور پٹھان گھر سے باہر نکلتے بھی ڈرتے ہیں۔ ایم کیو ایم گھروں اور دکانوں سے بھتہ وصول کرتی ہے، ایم کیو ایم جناح پور بنانا چاہتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

یوٹیوب پر ہی بارہ مئی کے دن پیپلز پارٹی اور اے این پی کے کارکنوں کو اسٹریٹ اوپن فائر کرتے ہوئے دکھایا جانے کی ویڈیو موجود ہیں۔ مگر وہ ویڈیوز سب نظر انداز کردیتے ہیں۔ الطاف حسین کراچی کے عوام کو طالبان کے خلاف اسلحہ خریدنے کی ترغیب دے تو سب چوکنے ہوجاتے ہیں۔ لیکن اے این پی کے شاہی سید کراچی شہر میں پختونوں کو یہ باور کرائیں کہ اردو بولنے والے محض پناہ گزین ہیں اور ہندوستان سے جوتے کھا کر نکالے گئے تھے تو کسی کو لسانی تعصب اور تشدد کی سیاست نظر نہیں آتی۔ ایم کیو ایم طالبان کے خلاف جمہوری طریقے سے احتجاج کرے (پارلیمان میں، میڈیا میں، عوام میں) تو سب اسے پختونوں کے خلاف مہم جوئی سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن صوفی محمد کے ترجمان کراچی کے پختونوں کو طالبان کو مدد کے لئے کراچی بلانے کی دعوت دیں تو کسی کو تعصب، تشدد اور خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔

ایم کیو ایم صوبہ سندھ کی دوسری سب سے بڑی جماعت ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ کے سندھی بولنے والے عوام ایم کیو ایم کے اتنے مخالف نہیں جتنا پنجاب اور صوبہ سرحد کے عوام ہیں۔ یہ بات کسی لسانی تناظر میں نہیں کہہ رہا لیکن یہ رویہ مجھے کافی عجیب لگتا ہے۔ کیونکہ میرے خیال میں ایم کیو ایم کی سیاست کا سب سے زیادہ اثر صوبہ سندھ میں ہوتا ہے لیکن وہاں کی عوام ایم کیو ایم کے بارے میں اتنی فکر مند نہیں ہوتی۔ اس کا احساس مجھے سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ جانے پر ہوا۔ وہاں ایم کیو ایم کے یونٹ آفس بھی ہیں لیکن وہاں کی عوام کو علم ہے انہیں ووٹ پیپلز پارٹی کو ہی دینا ہے۔ تو وہ ایم کیو ایم کو توجہ کے لائق ہی نہیں سمجھتے۔ نہ اس سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے خلاف ملک کے دیگر علاقے کےاس رویے کا ایم کیو ایم کے ووٹ بینک پر الٹا اثر پڑتا ہے۔ اور ایم کیو ایم اردو بولنے والے ووٹر کو کامیابی سے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ پنجابی اور پختون تمہارے نمائندوں کو منتخب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایم کیو ایم کے خلاف پروپگینڈے کو ایم کیو ایم کامیابی سے اردو بولنے والوں کے خلاف پروپگینڈہ بنا کر پیش کرتی ہے۔ وہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ اگر آپ اردو بولتے ہیں تو ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی آپ کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یوں ایم کیو ایم کا ووٹ بینک مضبوط ہوتا ہے

ایم کیو ایم مخالف پروپگینڈے کی ناکامی ایک اور وجہ اس کا بے تکا پن بھی ہے۔ جیسے مثال کے طور پر جناح پور کا منصوبہ، اور یہ کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنان اور کچھ نہیں بس ہر وقت اپنے ہی ووٹروں سے بھتہ خوری کرتے رہتے ہیں۔ ووٹر لیکن چونکہ ایم کیو ایم کے چندہ جمع کرنے کے عمل سے آگاہ ہے اس لئے وہ ایم کیو ایم کو چندہ بھی دیتا ہے اور ووٹ بھی۔

کراچی میں گذشتہ چند دنوں کے دوران چند جرائم پیشہ افراد نے لیاری میں بھتہ جمع کرنے کی منظم مہم شروع کی۔ ان جرائم پیشہ افراد کی ایم کیو ایم دشمنی اس بات سے عیاں ہے کہ ان کے علاقوں میں ایم کیو ایم کو یونٹ آفس کھولنے تک کی اجازت نہیں ہے۔ یہ نبیل گبول کا حلقہ ہے جہاں ہمیشہ سے وہ ہزاروں ووٹوں سے جیتتے چلے آرہے ہیں۔ ان علاقوں سے ایم کیو ایم کو کبھی جیتنا تو درکنار کبھی کامیاب جلسہ کرنا بھی نصیب نہ ہوا ہے۔ مگر پروپگینڈے کا بھونڈا پن دیکھیں کہ اس کا الزام بھی ایم کیو ایم کے سر محض اس لئے باآسانی منڈھا جاسکتا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کے لوگ ایم کیو ایم سے نفرت کرتے ہیں۔

اس کے بعد کورنگی ٹاؤن میں لینڈ مافیا کے افراد نے عوام پر فائرنگ کھول دی جس سے ہلاک ہونے والوں کی بڑی تعداد اردو بولنے والے افراد پر مشتمل تھی۔ جس کے بعد چند پراسرار افراد شہر میں ڈبل سواری پر پابندی کے باوجود موٹر سائیکلوں پر اسلحہ لیکر گھومتے رہے۔ مختلف علاقوں میں فائرنگ کرتے رہے۔ اور چن چن کر پختون محنت کشوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایم کیو ایم اور اے این پی نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے حالات کی نزاکت کو سمجھا اور سازش کو ایک بار پھر ڈفیوز کرنے کی کوشش کی۔

مگر یہ سازش کب تک ڈفیوز کی جاتی رہے گی؟ اس کے پیچھے جو لوگ شامل ہیں انہیں بے نقاب کیوں نہیں کیا جاتا؟

اس سازش میں وہی لوگ شامل ہیں جو امریکی سی آئی اے کو طالبان کے خلاف غلط معلومات فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس سازش میں وہی لوگ شامل ہیں کہ جو سینکڑوں پاک فوج کے جوانوں کی ہلاکت کے باوجود طالبان کو کامیابی سے شانگلہ تک لے آئے ہیں۔ اس سازش میں وہی لوگ شامل ہیں جو افغانستان سے پوست اسمگل کرتے ہیں، پورے ملک میں بینک ڈکیتیاں کرتے ہیں، زمینوں پر قبضے کرتے ہیں، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتے ہیں، جن کی سرپرستی میں کراچی شہر کی اہم پختون آبادیوں میں طالبان اور القاعدہ کے افراد جمع ہورہے ہیں۔

اس سازش کا کیا فائدہ ہوگا۔ پاکستان کی طالبانائزیشن اسلام آباد پر قبضے کے بغیر تو پوری ہوسکتی ہے مگر کراچی پر قبضے کے بغیر نہیں۔ معاشی، فکری اور معاشرتی طاقت کا یہ منبع اگر ان نظریاتی دہشت گردوں کے زیر دست نہیں آئے گا تو ان کے نظریات کی کامیابی کا دعوی کیسے پورا ہوگا؟

دشمن کو اس کا آسان طریقہ یہ نظر آتا ہے کہ وہ ملک کے شمالی علاقوں اور پنجاب کے عوام پر اثرانگیز ایم کیو ایم مخالف پروپگینڈے کو استعمال کرے۔ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ جہاں جہاں ایم کیو ایم طالبان کہتی ہے وہاں وہاں آپ اسے پنجابی اور پٹھان سے تبدیل کرلیں۔

ایم کیو ایم کو اسلام پسندوں کے مقابل کھڑا کردو۔ تاکہ اس کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو۔

پختونوں کو اردو بولنے والوں پر حملوں پر اکساؤ۔ ایم کیو ایم شور مچائے گی کہ ہمارے ووٹروں کے خلاف لسانی تشدد پر پختونوں کو اکسایا جارہا ہے مگر کوئی اس کی بات نہیں سنے گا۔

جب ایم کیو ایم کے کارکن جوابی حملے کریں تو پختونوں کی مدد کو داڑھی والے اونچی شلواروں والے رحمت کے فرشتوں کو بھیج دو۔ منصوبہ بہت سادہ اور آسان ہے اور اس کا بھانڈا پھوٹ جانے کے باوجود اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ کیونکہ دشمن کو معلوم ہے کہ ایم کیو ایم کی بات کوئی سنے گا ہی نہیں سوائے اس کے اپنے ہمدردوں اور ووٹر کے۔ اور وہ تو ویسے ہی ملک کی مجموعی آبادی کے تناسب سے کافی کم ہیں۔

نظام عدل کے خلاف وادیلا کیوں مچایا جائے؟

بتاریخ: 27 April 2009

تیرہ اپریل کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد منظور کی جس کے تحت صدر کے جاری کردہ نفاذ عدل ریگیولیشن کی بھرپور حمایت کی گئی۔ تین سو ارکان کے ایوان میں سے صرف متحدہ قومی موومنٹ اور ایاز میر نے اس مسودے کے خلاف پارلیمان میں آواز بلند کی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے اسے آئین پاکستان، عدلیہ، پارلیمان اور پاکستان کے عوام کی تضحیک قرار دیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

میں اپنے بلاگ پر پچھلی کئی تحاریر میں یہ بات دہرا چکا ہوں۔ کراچی کے لوگ پاکستان کی اسلامائزیشن اور طالبانائزیشن کے سخت مخالف ہیں۔ اس سے اکثر یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ کراچی کے لوگ اسلام مخالف ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ لیکن کراچی کے لوگ اسلام کے نام پر ایک طالبانی تجربے کی پاکستان میں آزمائش کے سخت مخالف ہیں اور اسے قائداعظم کے پاکستان کے اغراض و مقاصد سے متصادم سمجھتے ہیں۔ پاکستان کو ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست ہونا تھا جہاں تمام شہریوں کو یکساں مساوی حقوق حاصل ہوتے۔ ان حقوق میں اظہار رائے کی آزادی، ترقی اور خوشحالی کے حصول کا حق، تعلیم اور صحت کا حق، عبادت کا حق اور دیگر حقوق شامل ہیں۔ ملک میں جاری نام نہاد اسلامی تحاریک ان تمام حقوق کو عوام کی پہنچ سے بہت دور کردینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو پاکستان کی عوام کو پہلے ہی کم کم حاصل ہیں۔

لوگ سوال کرتے ہیں کہ صوبہ سرحد اور سوات و مالاکنڈ کراچی سے بہت دور ہیں تو ایم کیو ایم سوات میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ حکومتی معاہدے کی اتنی مخالف کیوں ہے؟ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ جات میں جاری خانہ جنگی کے باعث ہزاروں خاندانوں نے کراچی کی طرف نقل مکانی ہے۔ان علاقوں میں جو بھی کچھ ہوتا ہے یا آئندہ ہوگا اس کا لامحالہ اثر کراچی کی شہری زندگی پر محسوس کیا جائیگا۔ ان چند اثرات میں سے کچھ یہ ہیں ان کا ذکر پہلے بھی اسی بلاگ پر اس پوسٹ میں ہوچکا ہے۔

1۔ شہر میں بڑی تعداد میں غریب، ناخواندہ آبادی کا اضافہ جس میں اکثریت بچوں، بوڑھوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے لئے تعلیم، صحت اور بہتر معیار زندگی کا بندوبست کرنا شہر کی مجموعی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے ورنہ غربت اور ناخواندگی کا نتیجہ جرائم اور انتہاپسندی کی صورت میں نکلتا ہے۔

2۔ ان آنے والوں کی آڑ میں شہر میں شرپسندوں کی آمد اور کراچی کا بطور محفوظ پناہ گاہ استعمال کراچی کو دہشت گرد حملوں اور طالبانائزیشن کا آسان ٹارگٹ بنادیتا ہے۔

3۔ کراچی کے لوگوں کو خوف ہے کہ اس طرح کے انتہاپسند لوگ متاثرین جنگ کی آڑ میں کراچی کا امن تباہ کرسکتے ہیں۔ جس کی ایک مثال کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی حالیہ وارداتیں ہیں جن میں متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان ہلاک ہوئے ہیں۔

4۔ ایم کیو ایم کو یہ خوف ہے کہ اگر شہر میں لسانی فسادات بھڑکائے گئے تو شہر کی طالبانائزیشن بہت آسان ہوجائیگی۔ جو داڑھی والے مسلح نوجوان آپ آج ٹی وی پر بونیر کی گلیوں میں دندناتے دیکھ رہے ہیں وہ کل کراچی کی سڑکوں پر دندنا سکتے ہیں۔ اور صوفی محمد کے ترجمان اس کا اشارہ دے چکے ہیں کہ کراچی سمیت کہیں بھی مسلمان طالبان کو بلائیں گے تو وہاں طالبان ضرور ان کی مدد کو جائیں گے۔ صوفی محمد کے دیگر بیانات سے آپ یہ اندازہ لگا چکے ہونگے کہ ان کی نظر میں مسلمان کون ہیں اور کافر کون۔ ان بیانات کی رو سے متحدہ قومی موومنٹ اور کراچی کی مڈل کلاس سراسر کافروں پر مبنی ہے اور کیونکہ یہ لوگ سیکولر نظریات رکھتے ہیں اس لئے واجب القتل بھی ہیں۔

اس لئے ایم کیو ایم کو عوامی نیشنل پارٹی کے انتہاپسندوں کے ساتھ مذاکرات اور گٹھ جوڑ پر سخت تحفظات ہیں۔ چند ماہ قبل ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے فورا بعد کراچی میں لسانی فسادات بھڑکانے کی ایک سازش ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی ناکام بناچکے ہیں۔ مگر ہر بار ان سازشوں کو ناکام بنانا ممکن نہ ہوگا۔ خصوصا تب جب عوامی نیشنل پارٹی اپنے سیکولر نظریات کو دفن کرکے محض سیاست چمکانے کی خاطر انتہاپسندوں کو صوبہ سرحد میں پھلنے پھولنے اور پنپنے کا بھرپور موقع دے رہی ہو۔

5۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں سخت انتہاپسندی پر مبنی قوانین کا نفاذ پاکستان کے آئین سے متصادم ہیں جو ہر پاکستانی کو یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ ان قوانین میں سے چند یہ ہیں جیسے نائیوں کی دکانوں پر پابندی، موسیقی کی فروخت پر پابندی، لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے اور ووٹ ڈالنے پر پابندی، خواتین پر جبری پابندیوں کا نفاذ۔ وغیرہ۔ ایک طرف کراچی کی عوام کو یہ آزادیاں حاصل ہوں اور دوسری طرف ہمارے ملک کی ایک علاقے میں رہنے والی آبادی کو یہ حقوق حاصل نہ ہوں تو یہ سراسر ناانصافی ہے۔

کراچی کے لوگوں کی زندگیاں براہ راست اس سے متاثر ہونگی لیکن اس کے علاوہ ملکی زندگی پر اس کے اثرت بھی کراچی کے شہریوں کے لئے سخت تشویش کا باعث ہیں۔

1۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ایسی کوئی بھی قانون سازی نہیں کی جاسکتی جس سے پاکستانیوں کی شخصی آزادی یا بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہوں۔

2۔ پاکستان کا آئین اس بات کی بھی ضمانت دیتا ہے کہ پاکستان میں ایسی کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو۔ پاکستان کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے قوانین کو سپریم کورٹ کی شریعت بنچ میں چیلنج کرسکتا ہے جو اس کے خیال میں اسلام کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان قوانین کی موجودگی میں کسی نئے اسلامی پیکیج کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔

3۔ جو نام نہاد اسلامی قوانین کو نفاذ کیا جارہا ہے وہ محض ایک مخصوص گروہ کو پاکستان کے ایک علاقے کی معاشرت، معیشت اور عوامی زندگی پر اپنے مخصوص نظریات کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے۔ یہ نظریات پاکستان کے آئین، نظریہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق اور ملکی استحکام سے زبردست طریقے سے متصادم ہیں۔ اس تصادم سے انتہاپسندی بڑھے گی، تشدد بڑھے گا، نام نہاد اسلامائزیشن کے پروپگینڈے کو پر اثر ہونے کا موقع ملے گا اور ملک کے مزید غریب اور ناخواندہ نوجوان تشدد اور جنگ کی بھینٹ چڑھیں گے۔

4۔ دنیا بھر کے جن ملکوں میں بھی گذشتہ چند دہائیوں کے دوران مسلح تحریکوں نے جنم لیا ہے وہاں ریاستوں نے دہشت گردوں سے مذاکرات کئے ہیں۔ لیکن کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ دہشت گردوں کو ریاست کے چند علاقوں میں اپنے نظریات کے پرچار کی چھوٹ دی جائے۔

5۔ پاکستان کے ہی ایک اور صوبے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف ریاست کی کاروائی جاری ہے۔ حکومت وہاں کسی دہشت گرد سے مذاکرات نہیں کرتی بلکہ کسی کاروائی سے بھی سراسر انکاری ہے۔ دوسری طرف سرحد اور قبائل میں نام نہاد امن معاہدوں کے نام پر ہر ایک مہینے کی کاروائی کے بعد چار مہینوں تک کاروائی بند کردی جاتی ہے اور طالبان کو چیک پوسٹوں پر حملے اور ریاست پر لشکر کشی کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔

یہ تضاد بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کو روزبروز شدید کررہا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مصدقہ دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے ساتھ ہماری حکومت، فوج اور ایجنسیاں افہام و تفہیم اور تعاون کی بات کرتے ہیں اور اسی ملک کے دوسرے صوبے کے لوگوں کی کوئی بات بھی سننے کا روادار نہیں؟ کیا ہماری حکومت ایجنسیاں اور فوج ملک میں انتہاپسند اسلامائزڈ طالبانائزیشن کے حامی ہیں؟ پاکستان کے ان لوگوں کو کیا کرنا چاہئے جو امن چاہتے ہیں، جمہوریت چاہتے ہیں، خوشحالی، ترقی، تعلیم اور دنیا کے مہذب معاشروں میں عزت و مقام چاہتے ہیں؟ سندھی، بلوچی، پنجابی، پختون اور مہاجر سے ہٹ کر بطور پاکستانی ہمیں یہ سوچنا ہے کہ پاکستان کی بقاء اور مضبوطی کے لئے کیا ضروری ہے۔ اور کیا چیزیں ہیں جو ہمارے ملک کو کمزور کررہی ہیں۔ کراچی کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انتہاپسند دہشت گرد اپنے نظریات کے نفاذ سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہونگے۔ لیکن بلوچستان کے لوگوں کو آسانی سے راضی کیا جاسکتا ہے اور وہاں تحریک کو مذاکرات، تعمیر، ترقی اور امن معاہدوں سے محض چند مہینوں میں توڑا جاسکتا ہے۔ مگر ان سے بات کیوں نہیں جاتی، ان کے مطالبات کیوں نہیں مانے جاتے۔

6۔ طالبان کو دی جانیوالی حکومت سرحد، حکومت پاکستان، اور پاکستانی افواج کی چھوٹ سے کراچی کے شہریوں کو سخت تشویش ہے۔ مزید تشویش کا سبب بین الاقوامی برادری کے وہ کھلے عام الزامات ہیں جن میں پاکستانی ایجنسیوں پر طالبان اور القاعدہ کی مدد کا الزام لگایا جاتا ہے۔

7۔ یہ وہی ایجنسیاں ہیں جو پہلے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کے نام پر کراچی کے شہریوں ہر زبردست مظالم ڈھاچکی ہیں۔ اور ان کے لسانی تعصبات کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ کراچی کے شہریوں اور ایم کیو ایم کو ڈر ہے کہ یہ ایجنسیاں انہیں پشتو بولنے والی آبادی کے مقابل لاکھڑا کریں گے۔ لسانی فسادات کی آڑ میں شہر میں طالبان کو سڑکوں پر پختون آبادی کی مدد کے لئے بھیجا جائیگا اور اسطرح کراچی کی طالبانائزیشن کا منصوبہ عمل میں لایا جائیگا۔ اس منصوبے پر عمل میں ہزاروں لوگ مارے جائیں گے مگر ملک میں اسلام کا نفاذ مکمل ہوجائیگا اور ملک کافروں سے پاک جنت کا روپ دھار لے گا۔

8۔ وادیلا مچانے سے کیا ہوگا؟ وادیلا مچانے سے شہری ہوشیار رہیں گے۔ اے این پی کو اس بات پر رضامند کیا جاسکتا ہے کہ وہ انتہاپنسدوں کے ساتھ گٹھ جوڑ چھوڑ دے اور شہر کی ترقی میں پختون آبادی کے حصے کو مزید بڑھانے میں مدد کرے۔ متاثرین جنگ کے بہتر مستقبل کے لئے سیاست کرے اور کراچی سے ووٹ حاصل کرے جمہوریت کو مضبوط کرے۔ وادیلا مچانے سے طالبانائزیشن کے حامیوں کو اس بات کا ادراک ہوگا کہ گرچہ شہر پر قبضہ ہوجائیگا مگر اس دوران انہیں سخت عوامی مزاحمت کا سامنا ہوگا۔ وہ ابھی تک عوامی مزاحمت کے ذائقے سے ناآشنا ہیں۔ اور پہاڑوں پر جنگ کرنے والے جب تنگ گلیوں میں آئیں گے تو یہ میدان جنگ بہت مختلف ہوگا۔ اس جنگ کو دنیا اسلام پسندوں اور سیکولر لبرل لوگوں کے درمیان جنگ کی نظر سے دیکھیں گے۔ اس جنگ سی یہ تاثر پیدا ہوگا کہ عوام اسلام پسندوں سے متصادم ہیں۔ جو بطور مسلمان ہم سب کے لئے انتہائی شرم کا مقام ہوگا۔

ان چند وجوہات کی بنا پر میں، کراچی کے ان لاکھوں شہریوں میں شامل ہوں جو ایم کیو ایم کے طالبان اور نفاذ عدل معاہدے کی سخت مخالفت پر مبنی وادیلے کے پرزور حامی ہیں۔ ان حامیوں میں صرف ایم کیو ایم کے حامی ہی شامل نہیں بلکہ کئی ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو کٹر ایم کیو ایم مخالف ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات ہوں، مگر پہلے دہشت گردوں سے ہتھیار ڈلوائے جائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سالانہ اربوں روپیہ جو ہمارے ٹیکس پیسوں سے پاکستان کے دفاع پر خرچ کیا جاتا ہے اسے استعمال میں لایا جائے۔ ہم طالبان کو کچلنے کے لئے طاقت کے استعمال کے حامی نہیں۔ لیکن طالبان کی پیش قدمی اور تحریک کو روکنے لئے ہر قسم کی فوجی، سیاسی اور عوامی طاقت کے استعمال کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

04/05/2009

دشمن کو مزید کتنے پاکستانیوں کو قتل کرنا ہوگا تب جاکر کہیں قوم اپنے دشمن کا اصل چہرہ پہچانیں گے؟

صدائے احتجاج بلند کریں

بتاریخ: 05 April 2009

کراچی پریس کلب کے سامنے آج کراچی کے چند بلاگرز، صحافیوں اور دیگر تنظیموں نے سوات میں ہونے والے وحشیانہ ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ فیصل کپاڈیہ کے بلاگ پر اس کا احوال اور ڈاکٹر علوی کے بلاگ پر تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔

کل بروز اتوار متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام زبردست احتجاجی جلسہ منعقد کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ شہر بھر کی تنظیمیں بھی کل احتجاج کا ارادہ رکھتی ہیں۔ سوات میں عوام پر جاری طالبان کے وحشیانہ مظالم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

مظلوم لڑکی کا جرم

بتاریخ: 04 April 2009

شوکت نامی جس شخص نے لڑکی پر طالبان کے تشدد کی ویڈیو جاری کی ہے اس نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لڑکی کو سزا دراصل ایک طالبان کی شادی کی پیشکش رد کرنے پر دی گئی ہے اور یہ واقعہ دو ہفتے قبل پیش آیا ہے۔

شوکت نے مزید بتایا کہ مقامی لوگ طالبان سے اسقدر خوفزدہ ہیں کہ وہ اس واقعے کے خلاف کسی قسم کی آواز اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے۔

طالبان کے پرزور حامی اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ یہ سزا عین اسلامی ہے اور اس کی ویڈیو کی تشہیر کرنا بلاتصدیق کے عیب جوئی کرنا ہے۔

طالبان ترجمان، ملا صوفی کے ترجمان اور دیگر لوگ مختلف ٹی وی چینلز پر یہ بات قبول کرچکے ہیں کہ اس قسم کا واقعہ پیش آیا ہے اور یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی خواتین کو بند کمروں میں زدوکوب کیا گیا ہے۔

سوات میں طالبان کے انصاف کی ایک ویڈیو

بتاریخ: 03 April 2009

کمزور دل والے حضرات اور خواتین یہ ویڈیو نہ دیکھیں تو بہتر ہے۔ اس میں ایک خاتون کو طالبان کے ہاتھوں کوڑے کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے آخر میں لڑکی کی دلخراش چیخیں اور مدد کی پکار ہم سے کیا فریاد کررہی ہیں؟

قریب المرگ کمپیوٹرز کی مسیحا لینکس

بتاریخ: 01 April 2009

ہمارے گھر پر ایک بہت پرانا کمپیوٹر استعمال ہورہا تھا۔ چند دن پہلے اس کی میموری کا ایک حصہ انتقال کرگیا جس کے بعد اب اس کمپیوٹر کی میموری صرف ایک سو اٹھائیس ایم بی رہ گئی۔ اس میں انٹیل کا پنٹیم تھری پروسیسر ہے جو قریبا آٹھ سو میگا ہرٹز کی رفتار کا حامل ہوا کرتا تھا۔ مگر گرزتے وقت کے ساتھ ساتھ اب اس کی رفتار اسقدر مدہم ہوچکی ہے۔ اتنی کم ریسورسز میں اس پر ابنٹو یا ونڈوز ایکس پی کا چلنا بے حد دشوار تھا۔

آپ کو معلوم ہوگا چند روز قبل ڈیبیان نے اپنا نیا نسخہ لینی جاری کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار ڈیبیان نے اپنے کے ڈی ای، اور گنوم انسٹالیشن کے ساتھ ایک اور آپشن بھی رکھا ہے۔ وہ ہے ایل ایکس ڈی ای جو کہ مخفف ہے لائٹ ویٹ ایکس ڈیسکٹاپ انوائرنمنٹ کا۔ میں نے ایل ایکس ڈی ای کے بارے میں ویب پر پہلے ہی کچھ دلچسپ تبصرہ جات پڑھ رکھے تھے۔ یہ آپریٹنگ سسٹم خاص طور پر کمپیوٹرز کی اس نئی نسل کے نوٹ بکس کے لئے کارآمد ہے جو فوری طور پر آپ کو انٹرنیٹ سے جوڑنے کے کام آتے ہیں۔ جیسا کہ ای ای ای پی سی (جو کہ میرے فیوریٹ کمپیوٹر فروش گلیکسی کمپیوٹرز کے یہاں پچیس ہزار میں دستیاب ہے)۔ ایل ایکس ڈی ای بہت لائٹ ویٹ ہے اور اس کی سب سے خاص بات اس کی میموری بچانے کی خوبی ہے۔

ڈیبیان ایل ایکس ڈی ای ایک سنگل سی ڈی پر آسان گرافک انسٹالر کے ساتھ دستیاب ہے۔ ڈاونلوڈ صفحے پر جائیں اور ڈاؤنلوڈ کا طریقہ منتخب کریں میں ٹارنٹ کے ذریعے ڈاؤنلوڈ کرتا ہوں۔ اگلے اسٹیپ میں اپنا کمپیوٹر پلیٹ فارم منتخب کریں۔ یہاں آپ کو بتیس سی ڈی امیجز ڈاؤنلوڈ کے لئے دستیاب ہونگی۔ آپ کو صرف وہ سی ڈی ڈاؤنلوڈ کرنا ہے جس کے ساتھ ایل ایکس ڈی ای سی ڈی اول لکھا ہو۔

ڈیبیان نے لینی کے ساتھ اس بار یہ خوبصورت گرافک انسٹالر متعارف کرایا ہے جو کہ ایک سنگل سی ڈی کے ساتھ آپ کو فوری طور پر ایک مکمل آپریٹنگ سسٹم نصب کرکے دیتا ہے۔ سی ڈی ڈاؤنلوڈ کرنے کے بعد میں اسے اپنے پرانے کمپیوٹر میں لگایا اور ری بوٹ کرا۔ ڈیبیان کا گرافک انسٹالر ابنٹو کے انسٹالر کے مقابلے میں بہت تیز رفتار ہے۔ کیونکہ ڈیبیان ایک لائیو سسٹم آپ کے کمپیوٹر پر لوڈ کرنے کے بجائے براہ راست انسٹالیشن کے آپشن فراہم کرتا ہے۔ انسٹالیشن کے دوران آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کونسا ڈیسکٹاپ ماحول نصب کرنا چاہتے ہیں۔ گرچہ مجھے یہ انسٹالر بہت آسان لگا، کیونکہ میں پہلے ڈیبیان نیٹ انسٹال کے ذریعے کمانڈ لائین انٹرفیس استعمال کرتے ہوئے کی بار انسٹال کرچکا ہوں۔ اس لئے میں ڈیبیان کے انسٹالر سے کافی واقف ہوں۔ لیکن ہوسکتا ہے ابنٹو یا ونڈوز استعمال کرنے والوں کو یہ اتنا آسان نہ لگے۔

انسٹالیشن کے بعد ایک خوبصورت ڈیسکٹاپ پر لاگ آن ہوا۔ اب ایل ایکس ڈی ای کی خوبیاں:

یہ واقعی میں بہت برق رفتار ہے۔ خصوصا تب جب آپ اپنے کمپیوٹر پر محض ویب براؤسنگ اور ڈیجیٹل میڈیا سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہوں۔ ڈیفالٹ انسٹالیشن میں یہ آپ کو ویب براؤسر انسٹال کرکے نہیں دیتا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں پیکیج منیجمنٹ کے لئے بھی کوئی گرافک یوزر انٹرفیس والے ٹولز نہیں ہیں۔ سب سے پہلے ٹرمینل کھولا اور آپٹیٹیوڈ کے ذریعے سائنپٹک، ایپیپہینی ویب براؤسر، وی ایل سی میڈیا پلئر، پیڈجن، اور جاوا انسٹال کرے۔ ایپیپہینی ویب براؤسر اس لئے انسٹال کیا کہ فائر فاکس (ڈیبیان میں یہ آئس ویزل کہلاتا ہے) کمپیوٹر کو سست کردیتا، ایپیپہینی کے پیچھے فائر فوکس کا ہی انجن ہے مگر یہ بہت کم میموری کھاتا ہے۔ وی ایل سی میڈیا پلئر لائٹ ویٹ ہے اور تقریبا ہر میڈیا فائل پلے کرتا ہے۔

اب ہمارے گھر پر تین کمپیوٹرز کا ایک نیٹ ورک ہے۔ ان میں سے دو پر ڈیبیان ہے۔ ایک گنوم اور دوسرا ایل ایکس ڈی ای استعمال کرتا ہے۔ تیسرے پر ونڈوز ایکس پی ہے۔ اس کے علاوہ گنوم والے کمپیوٹر پر ہم ونڈوز وسٹا بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایل ایکس ڈی ای اسوقت ہمارے گھر پر سب سے مقبول ڈیسکٹاپ ہے کیونکہ یہ نہ صرف تیز ہے بلکہ کافی خوبصورت بھی ہے۔