تیرہ اپریل کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد منظور کی جس کے تحت صدر کے جاری کردہ نفاذ عدل ریگیولیشن کی بھرپور حمایت کی گئی۔ تین سو ارکان کے ایوان میں سے صرف متحدہ قومی موومنٹ اور ایاز میر نے اس مسودے کے خلاف پارلیمان میں آواز بلند کی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے اسے آئین پاکستان، عدلیہ، پارلیمان اور پاکستان کے عوام کی تضحیک قرار دیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
میں اپنے بلاگ پر پچھلی کئی تحاریر میں یہ بات دہرا چکا ہوں۔ کراچی کے لوگ پاکستان کی اسلامائزیشن اور طالبانائزیشن کے سخت مخالف ہیں۔ اس سے اکثر یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ کراچی کے لوگ اسلام مخالف ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ لیکن کراچی کے لوگ اسلام کے نام پر ایک طالبانی تجربے کی پاکستان میں آزمائش کے سخت مخالف ہیں اور اسے قائداعظم کے پاکستان کے اغراض و مقاصد سے متصادم سمجھتے ہیں۔ پاکستان کو ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست ہونا تھا جہاں تمام شہریوں کو یکساں مساوی حقوق حاصل ہوتے۔ ان حقوق میں اظہار رائے کی آزادی، ترقی اور خوشحالی کے حصول کا حق، تعلیم اور صحت کا حق، عبادت کا حق اور دیگر حقوق شامل ہیں۔ ملک میں جاری نام نہاد اسلامی تحاریک ان تمام حقوق کو عوام کی پہنچ سے بہت دور کردینے کا ارادہ رکھتے ہیں جو پاکستان کی عوام کو پہلے ہی کم کم حاصل ہیں۔
لوگ سوال کرتے ہیں کہ صوبہ سرحد اور سوات و مالاکنڈ کراچی سے بہت دور ہیں تو ایم کیو ایم سوات میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ حکومتی معاہدے کی اتنی مخالف کیوں ہے؟ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقہ جات میں جاری خانہ جنگی کے باعث ہزاروں خاندانوں نے کراچی کی طرف نقل مکانی ہے۔ان علاقوں میں جو بھی کچھ ہوتا ہے یا آئندہ ہوگا اس کا لامحالہ اثر کراچی کی شہری زندگی پر محسوس کیا جائیگا۔ ان چند اثرات میں سے کچھ یہ ہیں ان کا ذکر پہلے بھی اسی بلاگ پر اس پوسٹ میں ہوچکا ہے۔
1۔ شہر میں بڑی تعداد میں غریب، ناخواندہ آبادی کا اضافہ جس میں اکثریت بچوں، بوڑھوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے لئے تعلیم، صحت اور بہتر معیار زندگی کا بندوبست کرنا شہر کی مجموعی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے ورنہ غربت اور ناخواندگی کا نتیجہ جرائم اور انتہاپسندی کی صورت میں نکلتا ہے۔
2۔ ان آنے والوں کی آڑ میں شہر میں شرپسندوں کی آمد اور کراچی کا بطور محفوظ پناہ گاہ استعمال کراچی کو دہشت گرد حملوں اور طالبانائزیشن کا آسان ٹارگٹ بنادیتا ہے۔
3۔ کراچی کے لوگوں کو خوف ہے کہ اس طرح کے انتہاپسند لوگ متاثرین جنگ کی آڑ میں کراچی کا امن تباہ کرسکتے ہیں۔ جس کی ایک مثال کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی حالیہ وارداتیں ہیں جن میں متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان ہلاک ہوئے ہیں۔
4۔ ایم کیو ایم کو یہ خوف ہے کہ اگر شہر میں لسانی فسادات بھڑکائے گئے تو شہر کی طالبانائزیشن بہت آسان ہوجائیگی۔ جو داڑھی والے مسلح نوجوان آپ آج ٹی وی پر بونیر کی گلیوں میں دندناتے دیکھ رہے ہیں وہ کل کراچی کی سڑکوں پر دندنا سکتے ہیں۔ اور صوفی محمد کے ترجمان اس کا اشارہ دے چکے ہیں کہ کراچی سمیت کہیں بھی مسلمان طالبان کو بلائیں گے تو وہاں طالبان ضرور ان کی مدد کو جائیں گے۔ صوفی محمد کے دیگر بیانات سے آپ یہ اندازہ لگا چکے ہونگے کہ ان کی نظر میں مسلمان کون ہیں اور کافر کون۔ ان بیانات کی رو سے متحدہ قومی موومنٹ اور کراچی کی مڈل کلاس سراسر کافروں پر مبنی ہے اور کیونکہ یہ لوگ سیکولر نظریات رکھتے ہیں اس لئے واجب القتل بھی ہیں۔
اس لئے ایم کیو ایم کو عوامی نیشنل پارٹی کے انتہاپسندوں کے ساتھ مذاکرات اور گٹھ جوڑ پر سخت تحفظات ہیں۔ چند ماہ قبل ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے فورا بعد کراچی میں لسانی فسادات بھڑکانے کی ایک سازش ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی ناکام بناچکے ہیں۔ مگر ہر بار ان سازشوں کو ناکام بنانا ممکن نہ ہوگا۔ خصوصا تب جب عوامی نیشنل پارٹی اپنے سیکولر نظریات کو دفن کرکے محض سیاست چمکانے کی خاطر انتہاپسندوں کو صوبہ سرحد میں پھلنے پھولنے اور پنپنے کا بھرپور موقع دے رہی ہو۔
5۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں سخت انتہاپسندی پر مبنی قوانین کا نفاذ پاکستان کے آئین سے متصادم ہیں جو ہر پاکستانی کو یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ ان قوانین میں سے چند یہ ہیں جیسے نائیوں کی دکانوں پر پابندی، موسیقی کی فروخت پر پابندی، لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے اور ووٹ ڈالنے پر پابندی، خواتین پر جبری پابندیوں کا نفاذ۔ وغیرہ۔ ایک طرف کراچی کی عوام کو یہ آزادیاں حاصل ہوں اور دوسری طرف ہمارے ملک کی ایک علاقے میں رہنے والی آبادی کو یہ حقوق حاصل نہ ہوں تو یہ سراسر ناانصافی ہے۔
کراچی کے لوگوں کی زندگیاں براہ راست اس سے متاثر ہونگی لیکن اس کے علاوہ ملکی زندگی پر اس کے اثرت بھی کراچی کے شہریوں کے لئے سخت تشویش کا باعث ہیں۔
1۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ایسی کوئی بھی قانون سازی نہیں کی جاسکتی جس سے پاکستانیوں کی شخصی آزادی یا بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہوں۔
2۔ پاکستان کا آئین اس بات کی بھی ضمانت دیتا ہے کہ پاکستان میں ایسی کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو۔ پاکستان کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے قوانین کو سپریم کورٹ کی شریعت بنچ میں چیلنج کرسکتا ہے جو اس کے خیال میں اسلام کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان قوانین کی موجودگی میں کسی نئے اسلامی پیکیج کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔
3۔ جو نام نہاد اسلامی قوانین کو نفاذ کیا جارہا ہے وہ محض ایک مخصوص گروہ کو پاکستان کے ایک علاقے کی معاشرت، معیشت اور عوامی زندگی پر اپنے مخصوص نظریات کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے۔ یہ نظریات پاکستان کے آئین، نظریہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق اور ملکی استحکام سے زبردست طریقے سے متصادم ہیں۔ اس تصادم سے انتہاپسندی بڑھے گی، تشدد بڑھے گا، نام نہاد اسلامائزیشن کے پروپگینڈے کو پر اثر ہونے کا موقع ملے گا اور ملک کے مزید غریب اور ناخواندہ نوجوان تشدد اور جنگ کی بھینٹ چڑھیں گے۔
4۔ دنیا بھر کے جن ملکوں میں بھی گذشتہ چند دہائیوں کے دوران مسلح تحریکوں نے جنم لیا ہے وہاں ریاستوں نے دہشت گردوں سے مذاکرات کئے ہیں۔ لیکن کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ دہشت گردوں کو ریاست کے چند علاقوں میں اپنے نظریات کے پرچار کی چھوٹ دی جائے۔
5۔ پاکستان کے ہی ایک اور صوبے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف ریاست کی کاروائی جاری ہے۔ حکومت وہاں کسی دہشت گرد سے مذاکرات نہیں کرتی بلکہ کسی کاروائی سے بھی سراسر انکاری ہے۔ دوسری طرف سرحد اور قبائل میں نام نہاد امن معاہدوں کے نام پر ہر ایک مہینے کی کاروائی کے بعد چار مہینوں تک کاروائی بند کردی جاتی ہے اور طالبان کو چیک پوسٹوں پر حملے اور ریاست پر لشکر کشی کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔
یہ تضاد بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کو روزبروز شدید کررہا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مصدقہ دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے ساتھ ہماری حکومت، فوج اور ایجنسیاں افہام و تفہیم اور تعاون کی بات کرتے ہیں اور اسی ملک کے دوسرے صوبے کے لوگوں کی کوئی بات بھی سننے کا روادار نہیں؟ کیا ہماری حکومت ایجنسیاں اور فوج ملک میں انتہاپسند اسلامائزڈ طالبانائزیشن کے حامی ہیں؟ پاکستان کے ان لوگوں کو کیا کرنا چاہئے جو امن چاہتے ہیں، جمہوریت چاہتے ہیں، خوشحالی، ترقی، تعلیم اور دنیا کے مہذب معاشروں میں عزت و مقام چاہتے ہیں؟ سندھی، بلوچی، پنجابی، پختون اور مہاجر سے ہٹ کر بطور پاکستانی ہمیں یہ سوچنا ہے کہ پاکستان کی بقاء اور مضبوطی کے لئے کیا ضروری ہے۔ اور کیا چیزیں ہیں جو ہمارے ملک کو کمزور کررہی ہیں۔ کراچی کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انتہاپسند دہشت گرد اپنے نظریات کے نفاذ سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہونگے۔ لیکن بلوچستان کے لوگوں کو آسانی سے راضی کیا جاسکتا ہے اور وہاں تحریک کو مذاکرات، تعمیر، ترقی اور امن معاہدوں سے محض چند مہینوں میں توڑا جاسکتا ہے۔ مگر ان سے بات کیوں نہیں جاتی، ان کے مطالبات کیوں نہیں مانے جاتے۔
6۔ طالبان کو دی جانیوالی حکومت سرحد، حکومت پاکستان، اور پاکستانی افواج کی چھوٹ سے کراچی کے شہریوں کو سخت تشویش ہے۔ مزید تشویش کا سبب بین الاقوامی برادری کے وہ کھلے عام الزامات ہیں جن میں پاکستانی ایجنسیوں پر طالبان اور القاعدہ کی مدد کا الزام لگایا جاتا ہے۔
7۔ یہ وہی ایجنسیاں ہیں جو پہلے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کے نام پر کراچی کے شہریوں ہر زبردست مظالم ڈھاچکی ہیں۔ اور ان کے لسانی تعصبات کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ کراچی کے شہریوں اور ایم کیو ایم کو ڈر ہے کہ یہ ایجنسیاں انہیں پشتو بولنے والی آبادی کے مقابل لاکھڑا کریں گے۔ لسانی فسادات کی آڑ میں شہر میں طالبان کو سڑکوں پر پختون آبادی کی مدد کے لئے بھیجا جائیگا اور اسطرح کراچی کی طالبانائزیشن کا منصوبہ عمل میں لایا جائیگا۔ اس منصوبے پر عمل میں ہزاروں لوگ مارے جائیں گے مگر ملک میں اسلام کا نفاذ مکمل ہوجائیگا اور ملک کافروں سے پاک جنت کا روپ دھار لے گا۔
8۔ وادیلا مچانے سے کیا ہوگا؟ وادیلا مچانے سے شہری ہوشیار رہیں گے۔ اے این پی کو اس بات پر رضامند کیا جاسکتا ہے کہ وہ انتہاپنسدوں کے ساتھ گٹھ جوڑ چھوڑ دے اور شہر کی ترقی میں پختون آبادی کے حصے کو مزید بڑھانے میں مدد کرے۔ متاثرین جنگ کے بہتر مستقبل کے لئے سیاست کرے اور کراچی سے ووٹ حاصل کرے جمہوریت کو مضبوط کرے۔ وادیلا مچانے سے طالبانائزیشن کے حامیوں کو اس بات کا ادراک ہوگا کہ گرچہ شہر پر قبضہ ہوجائیگا مگر اس دوران انہیں سخت عوامی مزاحمت کا سامنا ہوگا۔ وہ ابھی تک عوامی مزاحمت کے ذائقے سے ناآشنا ہیں۔ اور پہاڑوں پر جنگ کرنے والے جب تنگ گلیوں میں آئیں گے تو یہ میدان جنگ بہت مختلف ہوگا۔ اس جنگ کو دنیا اسلام پسندوں اور سیکولر لبرل لوگوں کے درمیان جنگ کی نظر سے دیکھیں گے۔ اس جنگ سی یہ تاثر پیدا ہوگا کہ عوام اسلام پسندوں سے متصادم ہیں۔ جو بطور مسلمان ہم سب کے لئے انتہائی شرم کا مقام ہوگا۔
ان چند وجوہات کی بنا پر میں، کراچی کے ان لاکھوں شہریوں میں شامل ہوں جو ایم کیو ایم کے طالبان اور نفاذ عدل معاہدے کی سخت مخالفت پر مبنی وادیلے کے پرزور حامی ہیں۔ ان حامیوں میں صرف ایم کیو ایم کے حامی ہی شامل نہیں بلکہ کئی ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو کٹر ایم کیو ایم مخالف ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات ہوں، مگر پہلے دہشت گردوں سے ہتھیار ڈلوائے جائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سالانہ اربوں روپیہ جو ہمارے ٹیکس پیسوں سے پاکستان کے دفاع پر خرچ کیا جاتا ہے اسے استعمال میں لایا جائے۔ ہم طالبان کو کچلنے کے لئے طاقت کے استعمال کے حامی نہیں۔ لیکن طالبان کی پیش قدمی اور تحریک کو روکنے لئے ہر قسم کی فوجی، سیاسی اور عوامی طاقت کے استعمال کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
"" پرجاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین لکھتے ہیں: انا للہ و انا الیہ راجعون مائیں نی، میں کنوں آکھاں ، درد وچھوڑیاں دا حال۔ درحقیقت انسان اس
"" پرDuFFeR - ڈفر لکھتے ہیں: انا للہ و انا الیہ راجعون اللہ تعالٰی ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور آپ
"" پرساجداقبال لکھتے ہیں: انا للہ و انا الیہ راجعون. رب کریم انکے درجات بلند کرے۔
"" پرwajid ali babar لکھتے ہیں: انا للہ و انا الیہ راجعون
"" پرفیصل لکھتے ہیں: انا للہ و انا الیہ راجعون بہت افسوس ہوا یہ خبر سن کر۔ مائیں تو سب کی سانجھی
"" پرشگفتہ لکھتے ہیں: انا لللہ و انا الیہ راجعون بہت دکھی خبر ہے اور ماں جیسی ہستی کا کوئی نعم البدل
"" پرراشد کامران لکھتے ہیں: انا للہ و انا الیہ راجعون . اللہ تعالٰی آپ کی والدہ کے درجات بلند کرے اور آپ