چند دن پہلے میں شعیب بھائی سے چیٹ کے دوران پوچھ رہا تھا کہ کراچی کو دہشت گردوں نے نظر انداز کیوں کررکھا ہے؟ انہوں نے اس کے ڈانڈے بلیک واٹر، ایم کیو ایم، امریکا، بھارت اور اسرائیل سے جا ملائے۔ کہ چونکہ ایم کیو ایم اس معاہدے کا حصہ ہے تو ان کی عمل داری والے علاقے کو فی الحال دہشت گردی سے پناہ ملی ہوئی ہے۔
بی بی سی اردو پر رضا احمد نے بھی اس موضوع پر اپنا اظہار خیال کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دو سال تک نظر انداز کرے جانے کے بعد اچانک سے دہشت گردوں کو ہماری یاد کیوں آگئی؟
حادثے کے بعد ایک منظم گروہ نے آدھے گھنٹے کے اندر ملک کی سب سے بڑی مارکیٹوں کو آگ لگادی۔ ایک منظم سازش کے تحت ہر تین دکانیں چھوڑ کر ایک دکان جلائی گئی تاکہ سب دکانیں اچھی طرح آگ کی لپیٹ میں آجائیں۔ اربوں روپے مالیت کا نقصان ہوا۔ یہ بات سمجھنے کے لئے آپ کو راکٹ سائنٹسٹ ہونے کی ضرورت نہیں۔ مشتعل مظاہرین ایک مخصوص علاقے کی عمارتوں کو اس طریقے سے آگ کیوں لگائیں گے کہ وہ ایک دوسرے کو لپیٹ میں لے کر پورا علاقہ جلادیں؟ مشتعل عزاداران اتنی جلدی آتشگیر مادے کے کیمیکل کینز کہاں سے لائے؟ دہشت گردی کا منصوبہ صرف خودکش حملہ نہیں تھا بلکہ اس کے بعد افراتفری کا فائدہ اٹھا کر شہر کے تجارتی مراکز کو نذر آتش کرنا بھی منصوبے کا دوسرا حصہ تھا۔ کیونکہ تجارت اس شہر کے طرز زندگی کا ایک اہم جزو ہے۔ اس لئے دشمن کا ٹارگٹ اور اس کی دھمکی دونوں واضح ہیں۔ واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ وزارت داخلہ نے ایف آئی کے ڈائریکٹر کو انکوائری کا حکم دیا ہے۔
اس موقع پر لوگ ظاہر ہے حکومت کو ہی لعن طعن کریں گےْ لیکن آئیے ایک جائزہ اس بات کا لیتے ہیں کہ کیا واقعی جلوس کی سیکیوریٹی میں کسی قسم کی کمی چھوڑی گئی تھی؟
جلوس نشتر پارک سے نکلتا ہے اور ایم اے جناح روڈ سے گزرتا ہوا کھارادر پر ختم ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل راستہ ہے۔ جو شہر کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں سے گزرتا ہے۔ سینکڑوں گلیاں اور دسیوں سڑکیں ایم اے جناح روڈ کے دونوں اطراف سے آکر مرکزی شاہراہ پر ملتی ہیں۔ ایم اے جناح روڈ بند ہونے سے شہر دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور سڑک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک جانے کے لئے آپ کو تقریبا پورے ایم اے جناح روڈ کا چکر کاٹ کر راستہ ملتا ہے۔ لیکن چونکہ سڑک کے دونوں اطراف لاکھوں لوگ رہتے ہیں اس لئے جن علاقوں سے جلوس گزر چکا ہوتا ہے یا جہاں ابھی نہیں پہنچا ہوتا وہاں پیدل چلنے والوں کو سڑک پھلانگنے دی جاتی ہے۔
سندھ پولیس کے جوان ہر اس گلی اور سڑک کے نکڑ پر چوکس کھڑے ہوتے ہیں جو ایم اے جناح روڈ پر کھلتی ہے۔ عمارتوں پر اسنائپرز بٹھائے جاتے ہیں اور جلوس کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کی جاتی ہے۔ رینجرز کے جوان پوری سڑک پر تعینات ہوتے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں ایمبولینسیز، رینجرز اور پولیس کی گاڑیاں پوری سڑک پر موجود رہتی ہیں۔
سیکیوریٹی کی دوسری تہہ شعیہ تنظیموں کے اسکاؤٹس کی ہوتی ہے جو میٹل ڈیٹکٹر اور دیگر آلات سے لیس تھے اور جلوس کو چاروں طرف سے مکمل گھیرے میں لئے رہتے ہیں۔
خودکش حملہ آور یقینا نشتر پارک سے موقع کی تاک میں ہوگا۔ مگر اسے جلوس کے درمیان پہنچنے کا موقع نہیں مل سکا۔ یہاں تک کے شام ہونے کو آئی اور اس کی گھبراہٹ عروج پر پہنچ گئی کیونکہ چند گھنٹوں میں جلوس اختتام پذیر ہوجانا تھا۔ اس نے لائٹ ہاؤس کے قریب ایک گلی کے نکڑ سے جلوس میں داخل ہونے کی کوشش کری تو اسے اسکاؤٹس نے روک لیا اور اس نے گلی کے نکڑ پر ہی خود کو اڑادیا۔ اگر وہ جلوس کے درمیان خود کو اڑاتا تو جانی نقصان بہت زیادہ ہوتا۔
سیکیوریٹی میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی تھی اور نہ ہی دھماکے کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے میں کوئی تاخیر کی گئی۔ کراچی کی مقامی انتظامیہ ایمرجنسی ریسپانسز میں ملک کے تمام اداروں سے زیادہ مستعد ہے۔ اور ایسے سانحات پر شہر بھی کی تنظیمیں ایک بہت بڑی مشین کی طرح تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ ہسپتال ریڈ الرٹ پر ہوتے ہیں اور جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔
دھماکے کے آدھے گھنٹے کے اندر ہی چند افراد کے ایک چھوٹے سے گروہ نے بولٹن مارکیٹ کی دکانوں کو جلانا شروع کردیا۔ اس بات کے عینی شاہدین موجود ہیں کہ جلاؤ گھیراؤ کرنے والے منظم طریقے سے اپنا کام کررہے تھے، وہ کسی بھی طرح عزادار نہیں دکھائی دے رہے تھے، اور ان کے حلیوں کے بارے میں اس لئے کچھ نہیں کہونگا کیونکہ یہ لسانی تعصب کا تاثر دیگا۔
کراچی کے شہریوں کا ردعمل ہمیشہ بہت مثبت ہوتا ہے۔ اس شہر نے دہشت گردی کے کئی حملے سہے ہیں اور ایمرجنسی میں اس کے ادارے بہت عمدہ ریسپانس دیتے ہیں۔ تمام ادارے خاص طور پر پولیس اور رینجرز کے جوان، ہمارے فائر فائٹرز، ہمارے ڈاکٹرز اور نرسز، عام شہری جو زخمیوں کی مدد کو فورا آپہنچتے ہیں، ہماری شہری انتظامیہ سب اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔
پوسکتا ہے آپ کہیں کہ اگر احسن طریقے سے کام کرتے ہیں تو یہ اربوں روپے کی املاک کیسے جلادی گئی؟
کراچی میں فرقہ ورانہ فسادات نہیں ہوتے۔ لیکن کراچی میں ہر علاقے، ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگ رہتے ہیں۔ اس لئے فسادات کو روکنے کے لئے بطور خاص کوششیں کی جاتی ہیں اور اکثر شہر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیمیں ہم آہنگی سے امن کی کوششیں کرتی ہیں۔ آپ ایسی کوششیں تب دیکھ چکے ہیں جب ایم کیو ایم کے کراچی میں قبائلی متاثرین جنگ کی رجسٹریشن کے مطالبے پر شہر میں لسانی کشمکش پیدا ہوگئی تھی۔ لیکن بات چیت سے ٹینشن کو ڈفیوز کیا گیا۔ اس موقع پر بھی ایسا ہی ہوا۔ شہر کی پولیس فورس اور انتظامیہ کی فوری توجہ جلوس کو بہ حفاظت اس کی منزل تک پہنچانے پر تھی۔ دوسرا ایشو زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کا تھا۔ تیسرا مسئلہ جو ایک اور ڈائیورژن تھا وہ یہ تھا کہ شہر کے چند علاقوں میں ہوائی فائرنگ شروع کردی گئی۔ اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر دشمن اپنا دوسرا حملہ کرنے میں کامیاب ہوا اور انہوں نے دکانیں اور مارکیٹیں جلادیں۔
ان مارکیٹوں میں اور ملحقہ عمارتوں کے گوداموں میں تمام سامان ایسا تھا جو آسانی سے آگ پکڑنے والا تھا۔ جیسا کہ پرفیوم، اسپرے، ادویات، پلاسٹک، کپڑا، وغیرہ۔ اس کے باوجود اس آگ پر قابو پانے کی جان توڑ کوشش کی گئی۔ یہ آگ کسی ایک عمارت میں نہیں بلکہ کئی عمارتوں پر مشتمل ایک پورے تجارتی علاقے میں لگی ہوئی تھی جس پر اگر آپ شہر میں فائر بریگیڈ کے ریسورسز مدنظر رکھیں تو یہ ایک بڑی کامیاب امدادی کاروائی تھی۔ گرچہ پہنچنے والا نقصان اربوں روپے میں ہے مگر یہ علاقہ اسقدر گنجان ہے کہ آگ اس سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلنے کا امکان تھا۔
شہید ہونے والوں میں ایک رینجرز کے جوان اور ایک فائر فائٹر بھی ہیں۔ جو اس شہر کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت میں ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں معصوم بچے بھی ہیں اور خواتین بھی۔ جو املاک جلائی گئیں ان سے شہر میں سینکڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، اور کتنوں ہی کے کاروبار ایسے برباد ہوئے ہیں کہ وہ اب کبھی نہ اٹھ سکیں گے۔
اس موقع پر بھی ایسے قلمکار جو شہر کراچی کے بارے میں عجیب سے تعصبات کا شکار ہیں، حماقت افشانی، بھونڈے طنز اور اپنی بے تکی خوشی کو چھپا نہیں پارہے۔ اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو تعصبات سے دور رہیں اور ایسے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ اللہ ہمارے ملک ہمارے شہر اور ہمارے محلوں کو اپنی امان میں رکھے۔