آج کی پوسٹ کافی لمبی ہوگئی ہے۔ میں عموما اسقدر لمبی تحاریر شائع نہیں کرتا۔ لیکن آپ میں سے جو اسے پوری پڑھ سکیں ان کا پیشگی شکریہ۔
پاکستانی عموما ملک کے دیگر علاقوں کا اتنا سفر نہیں کرتے۔ ہمارے صوبہ سندھ کے لوگ خاص کر کم ہی ملک کے دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں خصوصا کراچی میں رہنے والے زیادہ تر لوگ تو محض چھٹیوں میں ہی کبھی نام نہاد پاکستان ٹور لگالیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی اکثر دوسری قومیتوں کے لوگوں کے بارے میں ماروائی قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔
مجھے اسلام آباد، روالپنڈی، اور لاہور جاتے ہوئے اب چند سال ہوگئے ہیں۔ اس دوران ان تین شہروں کے متعدد چکر لگے۔ ایک دو بار ٹرین میں سفر کیا حالانکہ میرے آنے جانے کے اخراجات میں خود نہیں دیتا مگر مجھے پاکستان ریلوے سے محبت ہے۔ دوران سفر پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ چونکہ میں بہت باتونی ہوں اس لئے اجنبیوں سے فری ہونے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اس دوران مجھ پر یہ حقیقت بالکل واضح ہوگئی کہ ہم سب پاکستانی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔
پہلے میں کراچی کے لوگوں کا ذکر کرونگا خاص طور پر اردو اسپیکنگ کراچی والوں کا کہ یہ دوسرے علاقوں کے لوگوں کے بارے میں عام طور پر کیا غلط فہمیاں رکھتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ کراچی کے اردو اسپیکنگ لوگ باقی پاکستانیوں کو واقعی جاہل سمجھتے ہیں۔
پنجاب کے لوگوں کے بارے میں ان کی عمومی رائے یہ ہے کہ وہ دھوکے باز ہوتے ہیں، بدتمیز اور گنوار ہوتے ہیں، اردو اسپیکنگ لوگوں سے سخت نفرت کرتے ہیں اور موقع ملنے پر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سندھیوں کے بارے میں بھی ان کی رائے کم و بیش یہی ہے سوائے اس کے کہ تھوڑے پڑھے لکھے اردو بولنے لوگ سندھیوں کے کلچر سے متاثر نظر آتے ہیں۔ مگر عام طور پر یہ انہیں بھی جاہل، اجڈ اور گنوار سمجھتے ہیں۔
حالیہ واقعات نے شہر کے پٹھانوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا ہر شہری پختونوں کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتا ہے، بانسبت دیگر قوموں کے۔ یہ محض میرا مشاہدہ ہے کوئی سائنٹفک اسٹڈی نہیں۔
لوگوں کا یہ شکوہ کہ کراچی کے لوگ باقی پاکستانیوں کو اجڈ اور گنوار سمجھتے ہیں۔ بالکل بجا ہے اور کراچی کے اردو اسپیکنگ طبقے کو اس پر شرمندہ ہونا چاہئے۔ کم از کم میں تو ہوتا ہوں۔ میں قطعا باقی پاکستانیوں کو جاہل نہیں سمجھتا۔ بلکہ وہ مجھ جیسے جاہل کو بہت مہذب سمجھتے ہیں۔ جس پر مجھے مزید شرم آتی ہے۔
میں جتنی مرتبہ بھی پنجاب گیا (ہر سال قریبا دو یا تین دفعہ ایک ایک ہفتے کے لئے) مجھے بالکل ایسا نہیں لگا کہ میں کسی اجنبی جگہ پر ہوں۔ کراچی والوں کا یہ تعصب کہ پنجابی انہیں دھوکہ دینے اور نقصان پہنچانے کے لئے گھات لگائے بیٹھے رہتے ہیں بے بنیاد نکلا۔ بلکہ میں نے انہیں سادہ طبیعت پایا۔
صوبہ پنجاب کے لوگ آسانی سے دوست بن جاتے ہیں۔ مجھے پٹھانوں، سندھیوں، اور اردو اسپیکنگ لوگوں کے ساتھ بے تکلف ہونے میں کافی وقت لگا مگر پنجاب میں تو لوگ بہت ہی جلد بے تکلف ہوجاتے ہیں۔
مہمان نواز بھی بہت ہوتے ہیں اور دوستوں کے لئے بہت وقت نکالتے ہیں۔ اپنی جیب، روز مرہ معمولات، اور ہر چیز چھوڑ چھاڑ آپ کو سیر سپاٹے کرانے نکل جاتے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے لوگ بھی کراچی والوں کے بارے میں عجیب غلط فہمیاں رکھتے ہیں۔ جن میں سب سے سر فہرست یہ ہے کہ کراچی والے مہذب، باتمیز، اور تعلیمیافتہ ہوتے ہیں۔ اف کاش کبھی یہ لوگ آکر لالوکھیت، لائنز ایریا، رنچھوڑلائن، وغیرہ میں گھومیں۔ گٹکے کھاتے پچکاریاں مارتے، سوکھے سڑے بے روزگار نوجوانوں کے ٹولے دیکھ کر ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔
ایم کیو ایم کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں یہ مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ مگر اردو بولنے والی عوام کے بارے میں ان کی رائے شرمندہ کردینے کی حد تک مثبت ہے۔ وہ اردو بولنے والوں کو سمجھدار، باشعور جی ہاں وہ اردو بولنے والوں کو واقعی باشعور سمجھتے ہیں۔ گرچہ وہ غصے میں آکر کچھ لکھ بھی دیں مگر یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ وہ اردو بولنے والے پاکستانیوں کو بہت اچھا سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ ایم کیو ایم کی تنظیمی صلاحیتوں کے معترف ہوتے ہیں، وہ مصطفی کمال کی بے باکی پسند کرتے ہیں، وہ مشرف کے مکے پسند کرتے ہیں، وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بے انتہا عقیدت رکھتے ہیں۔ کاروباری معاملات میں وہ آپکو ہوشیار سمجھتے ہیں۔
کراچی کی لڑکیوں کے بارے میں پنجاب کے لڑکوں کے خیالات کافی عجیب ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آپ بہت بولڈ ہوتی ہیں، گرچہ آپ جلدی فری ہوجاتی ہیں مگر بدتمیزی برداشت نہیں کرتیں، اور چونکہ وہ پنجابی ہیں اس لئے انہیں آپ کو ایمپریس کرنے کے لئے ڈبل محنت کرنا پڑے گی۔ تو لڑکیوں چھوڑو کراچی کے سوکھے سڑے لڑکوں کو پنجاب میں پڑھے لکھے لڑکوں کی کمی نہیں اور قسم سے وہ تمہارے بچوں سے بھی کبھی پنجابی نہیں بلوائیں گے بلکہ ان کے دادا دادی انہیں اردو بولتے دیکھ کر بہت خوش ہونگے۔ (یہ آنکھوں دیکھی بات ہے کہ پنجاب میں میرے ایک دوست کے گھر میں بچے پنجابی نہیں بولتے بلکہ انہیں اردو بولنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اور یقین کریں پنجاب کے لوگ کراچی والوں سے اچھی اردو بولتے ہیں)۔
اب برائیوں کا ذکر ہوجائے۔ پنجاب کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کراچی کے اردو اسپیکنگ لوگ کم کھانا کھاتے ہیں، کمزور ہوتے ہیں، لڑائی جھگڑے سے گھبراتے ہیں، مہمان نواز نہیں ہوتے، خوبصورت نہیں ہوتے، پنجابیوں یا دیگر قومیتوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے، ایم کیو ایم کو ووٹ دیتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
اکثر پنجاب میں رہنے والے وہ لوگ جو کراچی آتے ہیں انہیں کراچی والے بداخلاق بھی معلوم ہوتے ہیں۔ انہیں کراچی کی سڑکیں گندی، لوگ متعصب اور شہر کی معاشرتی زندگی مختلف محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ کراچی شہر میں رہائش اختیار کرلیں تو آہستہ آہستہ انہیں یہ طرز زندگی سمجھ میں آنے لگتا ہے۔
اب میں اس بات کا ذکر کرونگا کہ یہ تعصبات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ پنجاب کے لوگ زیادہ فرینڈلی ہوتے ہیں چونکہ کراچی میں لوگ اتنے فرینڈلی نہیں ہوتے اس لئے وہ اس چیز کو صحیح طرح سمجھ نہیں پاتے۔ پنجاب کے لوگوں کی زندہ دلی آپ کو شاید اس لئے بدتمیزی لگے کیونکہ آپ ان کے کلچر سے واقف نہیں۔ ٹیکسی والوں کا، دکانداروں کا، اور ہوٹل والوں کا آپ سے رویہ اس لئے اوور فرینڈلی ہوتا ہے کیونکہ آپ ان کے گاہک ہیں۔ کراچی میں یہ کانسیپٹ ناپید ہوگیا ہے۔ اس لئے آپ کو یہ لگتا ہے کہ شاید آپ کو مکھن لگا کر ٹھگا جارہا ہے۔
پنجاب میں اگر آپ ہوٹل کے بیروں، ٹیکسی ڈرائیورز، یا سرکاری کارندوں سے اچھی طرح بات کریں اور انہیں باتوں میں باتوں میں یہ بتا دیں کہ اپ کراچی سے آئے ہیں (ویسے کافی سارے لوگ خود ہی اندازہ لگالیتے ہیں آپ لوگ ناک سے اردو بولتے ہیں) تو آپ کافی رعایتی سلوک کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ اور یقین کریں وہ اپنے پنجابی بھائیوں کے ساتھ جی بھر کر بدتمیز ہوتے ہیں یہ خاص سلوک صرف آپ کے ساتھ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ آپ کراچی سے آئے ہیں اور اردو اسپیکنگ ہیں۔
بارگیننگ کا کلچر پنجاب میں کراچی سے مختلف ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس ذرعی صوبے میں فروٹ سے لیکر کپڑے تک ہر چیز کراچی سے مہنگی ہے۔ مگر یقین مانئے وہ آپ کو ٹھگ نہیں رہے بلکہ واقعی یہ ہمارے ملک کے تجارتی نظام کی ہولناک خامی ہے۔ کہ یہاں اگنے والی کپاس کے بنے ہوئے ملبوسات اور خیبر پختونخواہ کے پھل پنجاب کے بجائے کراچی میں کم داموں میں مل جاتے ہیں۔
پنجاب کے لوگوں تم بھی سن لو۔ کراچی والے دبلے پتلے ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی کا پانی ایسا ہے کہ کھانا دیر سے ہضم ہوتا ہے۔ کراچی کے لوگ کھانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں اور انہیں طرح طرح کے کھانے چکھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ اور وہ اس معاملے میں زندہ دلی میں پنجاب سے دو قدم آگے ہی ہونگے پیچھے نہیں۔
کراچی کے لوگ اتنی چائے نہیں پیتے جتنی آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیتے ہونگے۔ بلکہ پنجاب کے لوگ بہت زیادہ چائے پینے لگے ہیں اور سندھ میں بھی چائے بہت زیادہ پی جانے لگی ہے۔ ہم لوگ آپ کی کڑاکے دار سردی سے انجان ہوتے ہیں اس لئے ہمارے کپکپانے کو نفاست نہ سمجھیئے گا۔
اگر اگلے سال ہم آپ سے ملنے آئیں تو ذرا کم گرم جوشی سے گلے لگائیں ہر مرتبہ آپ کی گرمجوشی ہمیں حیرت میں مبتلا کردیتی ہے کہ آپ کس بات پر اتنا خوش ہیں۔
اور اگر اس سے پہلے آپ کراچی آجائیں تو قطعا یہ توقع نہ کیجئے گا کہ ہم دفتر چھوڑ کر ٹیکسی پکڑ کینٹ اسٹیشن یا ایر پورٹ آئیں گے۔ اپ کو ہمارے گھر کا راستہ پتہ ہے خود پہنچ جائیے گا۔
اب آخر میں۔۔۔۔
ہم سب کا مشترکہ گھر انتہائی خطرناک مصیبت میں پھنسا ہوا ہے۔ ہمارے لاکھوں بہن بھائی انتہائی شدید آفت کا شکار ہیں۔ لاکھوں لوگوں کے مکانات تباہ ہوگئے ہیں، فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، لوگ بھوکے پیاسے پڑے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے شدید وبائی امراض کی زد پر ہیں۔
ہم سب ایک دوسرے پر خوب خوب تعصب کے طنز برسائیں گے اور اس بات پر خوب لڑیں گے کہ کون زیادہ بہتر ہے۔ مگر ساتھ ساتھ ملک کی اس خطرناک صورتحال پر کچھ کرلیں؟ ساتھ رہیں گے تو یہ چھوٹی چھوٹی جھڑپیں تو چلتی ہی رہیں گی۔ لیکن اس ملک کا شیرازہ بکھر گیا تو میں کس سے لڑونگا اور کس پر تعصب کا الزام لگاؤنگا؟