نعمان کی ڈائری

ایک عام سے لڑکے کی بہت خاص خاص باتیں

پرجوش، مشتعل، بدتمیز باکمال

کراچی کے لوگوں کی ایک بری عادت ان کی بے رخی، صاف گوئی اور بے اعتنائی ہے۔ یہ میری رائے نہیں یہ ملک کے دیگر علاقوں میں رہنے والے پاکستانیوں کی رائے ہے۔ ملاحظہ فرمائیے ایک مثال:

واضح رہے یہ اس شخص کی ویڈیو ہے جو سانحہ کراچی کے بعد چھتیس گھنٹے تک خود کھڑے ہوکر آگ بجھانے اور عمارتوں کو بچانے کے کام کی نگرانی کرتا رہا۔ اگلے دن اس نے چیمبر آف کامرس کے ممبران سے ملاقاتیں کیں۔ کل بزنس کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنی مدد آپ کے تحت مارکیٹوں کی تعمیر نو اور مرمت کے کام کا آغاز کروایا۔ جب یہ سب کام نمٹا کر وہ واپس پہنچتا ہے تو اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ وہ اس بارے میں کیا کہے گا کہ اس کی سیاسی جماعت پر اس حملے میں ملوث ہونے کا شبہ کیا جارہا ہے؟

آپ چاہے کراچی والوں کو بدتمیز کہیں، میری رائے یہ ہے کہ کراچی کے لوگ پرجوش ہیں۔ آپ زخموں سے چور اس شہر کے نمائندوں پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور شہر سب الزامات سے بے پرواہ ملبہ میں سے پھر اٹھ کھڑا ہورہا ہے:

karachi rising back after Ashura Bombings

ایک اور سوال جو میرے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ صوبہ پنجاب کا کونسا قابل ذکر رہنما، ملکی معیشت کو پہنچنے والے اس تیس ارب کے نقصان کا جائزہ لینے، افسوس کرنے یا متاثرین سے اظہار ہمدردی کے لئیے آیا ہے؟ پھر آپ حیران کیوں ہوتے ہیں کہ لوگ ایم کیو ایم کو بھتہ بھی دیتے ہیں اور ووٹ بھی۔

تعصب کا بھانڈا

کل جماعت اسلامی کے تشدد پسند، طالبان پسند، دہشت کے دلدادہ اور ٹیررسٹوں کے ٹرینی رہنما جناب لیاقت بلوچ صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ سانحہ عاشورہ کا بھانڈا ایک برطانوی جریدے نے پھوڑ دیا ہے۔ بھانڈا جو پھوڑا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جی امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کے گٹھ جوڑ کے زیر اثر بدنام زمانہ بلیک واٹر اور متحدہ قومی موومنٹ نے سانحہ عاشورہ کی دہشت گردی کی ہے۔

آئیے جھوٹوں کو گھر تک چھوڑ کر آئیں۔ سب سے پہلے تو ہم اس برطانوی جریدے کا جائزہ لیتے ہیں جس کا نام دی لندن پوسٹ ہے۔ کسی بھی ویب سائٹ کی کریڈیبلیٹی جاننے کے لئے آپ کا براؤسر سب سے اہم ہتھیار ہے۔ ذرا رابطے کے صفحے پر کلک کریں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں صرف ای میل ایڈریسز درج ہیں۔ دی لندن پوسٹ نامی ویب سائٹ کا برطانیہ میں کوئی دفتر، کوئی نمائندہ، کوئی ڈسٹریبیوٹر حتی کہ کوئی مشتہر بھی نہیں ہے۔ اب ہم اشتہار کے صفحے پر جاتے ہیں۔ اس صفحے پر آپ کو ضرور مستند معلومات ملتی ہیں۔ کیونکہ ہر ویب سائٹ کو مشتہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشتہار بازی کے صفحے پر یوکے کے نیچے صرف ایک ای میل ایڈریس ہے۔ اور ایشیا کے نیچے پاکستان کا ایک موبائل نمبر کوئی لینڈ لائن نمبر بھی نہیں ہے۔ دونوں علاقوں کے لئے ایک ہی ای میل ایڈریس دیا گیا ہے۔

اب ہم اس ادارے کا جائزہ لیتے ہیں جو دی لندن پوسٹ کے ویب سائٹ کے مطابق ان کی مارکیٹنگ کا ذمہ دار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ادارے کا نہ ہی کوئی ویب سائٹ ہے اور نہ ہی کوئی اور سراغ۔ تمام انٹرنیٹ پر اس کا ذکر صرف دی لندن پوسٹ پر ہی نظر آتا ہے۔

مزید سراغ تلاش کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دی لندن پوسٹ نامی ویب سائٹ پاکستان کے شہر لاہور سے ہوسٹ کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائے۔

اب ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس مضمون کے لکھنے والے ڈاکٹر شاہد قریشی صاحب کون ہیں اور ان کی خود کی کریڈیبیلیٹی کیا ہے؟

ہم یہ جاننے سے بالکل قاصر ہیں کہ یہ شخص کون ہے کہاں رہتا ہے، کیا کرتا ہے وغیرہ۔ یہ خود کو ایک سیکیوریٹی اور سیاسی مبصر کی حیثیت سے متعارف کراتا ہے۔ مگر بے پناہ تحقیق کے باوجود ہم یہ نہیں جان پائے کہ یہ شخص کون ہے۔ محض ایک لنک ایسا ملا ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے بلاگ کا ہے۔ اس بلاگ پر ڈاکٹر شاہد قریشی نامی شخص کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بقول اس ویب سائٹ کے ڈاکٹر شاہد قریشی نامی شخص انٹرنیٹ پر بعض انتہائی پراسرار ویب سائٹس (جیسا کہ دی لندن پوسٹ) پر نفرت انگیز تحاریر لکھتا ہے۔ اس کی تحاریر زیادہ تر امریکہ، اسرائیل، بھارت، ایم کیو ایم اور قادیانی دشمنی پر مبنی ہوتی ہیں۔ میں نے اس کی چند تحاریر پڑھی ہیں آپ بھی تلاش کرکے پڑھئے کراچی اور اس کے اردو بولنے والے شہریوں اور ایم کیو ایم کے خلاف اپنے تعصب کو یہ شخص شائستگی کے پردے میں ڈھکنے کا بھی روادار نہیں ہے۔

آج کل کے دور میں اگر ویب پر مضامین لکھتے ہیں تو کسی کے لئے بھی یہ معلوم کرنا مشکل نہیں کہ آپ کون ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ میرے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں تو میرا نام گوگل میں لکھنے سے آپ میرا بلاگ دیکھ سکتے ہیں، آپ فیس بک پر میری پروفائل دیکھ سکتے ہیں، آپ میری تعلیمی استعداد، میرے شوق، میں کیا کیا کام کرچکا ہوں اور کیا کرنا چاہتا ہوں، کہاں رہتا ہوں، میرا ای میل ایڈریس کیا ہے، میرا موبائل فون نمبر اور میرے انسٹنٹ مسینجر کی آڈیز۔ میرے خیالات کیا ہیں اور سیاسی طور پر میں کن نظریات کا حامل ہوں سب کچھ محض چند منٹوں میں معلوم کرسکتے ہیں۔ ایک نام نہاد سیکیوریٹی اور سیاسی مبصر جو ویب پر مضامین لکھتا ہے اس کے بارے میں انٹرنیٹ پر کسی بھی معلومات کا میسر نہ ہونا ایک بڑی مشکوک بات ہے۔

آپ ذرا اس بابت کچھ ذکر ہوجائے کہ ایم کیو ایم کے بارے میں یہ دعوی مضحکہ خیز کیوں ہے۔ جو مارکیٹیں جلائی گئی ہیں ان کے اکثر دکاندار نہ صرف ایم کیو ایم کے ووٹر ہیں بلکہ ایم کیو ایم کی مالی سپورٹ بھی کرتے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے تمام چھوٹے بڑے رہنما تمام سانحے کے دوران جائے وقوع پر چھائے رہے۔ زخمیوں کی منتقلی سے لیکر آگ بجھانے تک۔ صفائی سے لیکر مارکیٹوں کی تعمیر نو تک۔ دکانداروں اور متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یہ پروپگینڈہ کراچی کی عوام کے لئے نہیں بلکہ پاکستان کی پختون اور پنجابی عوام کے لئے کیا جارہا ہے جو ویسے ہی ایم کیو ایم کو چاند گرہن سے لیکر پولیو تک کے لئے ہر برائی کا منبع سمجھنے کو ہر وقت ذہنی طور پر تیار رہتے ہیں۔ پروپگینڈے کا مقصد ایم کیو ایم اور کراچی کے خلاف تعصب کو مزید مضبوط کرنا ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک رویہ انتہاپسندوں جیسا کہ لیاقت بلوچ کا وہ رویہ ہے جب وہ اس قسم کی غیر مصدقہ بڑبڑاہٹ کو بطور پروف پیش کرنے لگتے ہیں۔ یقینا لیاقت بلوچ صاحب کو بخوبی اندازہ ہے کہ یہ تحریر کس قدر بیوقوفانہ ہے۔ مگر کراچی اور ایم کیو ایم دشمنی کا رویہ ہمارے ملک میں ایسا ہی ہے جیسے یہودی دشمنی۔ جب بھی کسی مسئلے کی کوئی توجیہہ سامنے نہ آئے تو اسے پاکستان کے نئے صیہونیوں ایم کیو ایم کے سر منڈھ دو۔

پاکستان میں کبھی بھی کسی مسلم لیگی چاہے وہ قاف ہو یا نون، یا کسی پختون چاہے وہ سیکولر ہو یا انتہاپسند کبھی انہیں بھارتی ایجنٹ یا را موساد کا ٹیررسٹ قرار نہیں دیا جاتا۔ راولپنڈی، لاہور، اسلام آباد میں اتنے بم دھماکے ہوئے کسی لیگی پر الزام نہ لگا، کسی نے جماعت کو موردالزام نہ ٹہرایا حتی کہ وزیراعلی پنجاب جنوبی پنجاب کے طالبان تک کو موردالزام یا مشکوک ٹہرانے کو راضی نہیں۔ پشاور میں اسقدر خون بہا مگر کسی نے اے این پی، مولانا فضل الرحمان، یا کسی اور پختون سیاستدان کو موردالزام نہ ٹہرایا۔ پاکستان دشمنی کے یہ طعنے پہلے بنگالیوں پر ٹوٹے، پھر بلوچوں پر، سندھی قوم پرستوں پر اور ایم کیو ایم پر۔ ان تمام الزامات کے باوجود ایم کیو ایم یہاں موجود ہے اور اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ یہ کہیں جائے۔ کیا ساٹھ سال میں ہم اتنے بھی بالغ النظر نہیں ہوئے کہ اپنے نسلی اور لسانی تعصبات سے جان چھڑا سکیں اور ان لوگوں کے درد کا سوچ سکیں جو پاکستان کو سالوں سے اربوں روپے کا ٹیکس، ہزاروں نوکریاں، اور ایک قابل بھروسہ معیشت فراہم کرتے رہے ہیں؟

دردمند پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ وہ متعصب انتہاپسند، دہشت پسند اور طالبان پسند قسم کے عناصر سے دور رہیں اور ان کی ہر ممکن طریقے سے حوصلہ شکنی کریں۔ سوشل بائیکاٹ اس کا سب سے اہم ہتھیار ہے۔

سانحہ کراچی چند حقائق

چند دن پہلے میں شعیب بھائی سے چیٹ کے دوران پوچھ رہا تھا کہ کراچی کو دہشت گردوں نے نظر انداز کیوں کررکھا ہے؟ انہوں نے اس کے ڈانڈے بلیک واٹر، ایم کیو ایم، امریکا، بھارت اور اسرائیل سے جا ملائے۔ کہ چونکہ ایم کیو ایم اس معاہدے کا حصہ ہے تو ان کی عمل داری والے علاقے کو فی الحال دہشت گردی سے پناہ ملی ہوئی ہے۔

بی بی سی اردو پر رضا احمد نے بھی اس موضوع پر اپنا اظہار خیال کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ دو سال تک نظر انداز کرے جانے کے بعد اچانک سے دہشت گردوں کو ہماری یاد کیوں آگئی؟

حادثے کے بعد ایک منظم گروہ نے آدھے گھنٹے کے اندر ملک کی سب سے بڑی مارکیٹوں کو آگ لگادی۔ ایک منظم سازش کے تحت ہر تین دکانیں چھوڑ کر ایک دکان جلائی گئی تاکہ سب دکانیں اچھی طرح آگ کی لپیٹ میں آجائیں۔ اربوں روپے مالیت کا نقصان ہوا۔ یہ بات سمجھنے کے لئے آپ کو راکٹ سائنٹسٹ ہونے کی ضرورت نہیں۔ مشتعل مظاہرین ایک مخصوص علاقے کی عمارتوں کو اس طریقے سے آگ کیوں لگائیں گے کہ وہ ایک دوسرے کو لپیٹ میں لے کر پورا علاقہ جلادیں؟ مشتعل عزاداران اتنی جلدی آتشگیر مادے کے کیمیکل کینز کہاں سے لائے؟ دہشت گردی کا منصوبہ صرف خودکش حملہ نہیں تھا بلکہ اس کے بعد افراتفری کا فائدہ اٹھا کر شہر کے تجارتی مراکز کو نذر آتش کرنا بھی منصوبے کا دوسرا حصہ تھا۔ کیونکہ تجارت اس شہر کے طرز زندگی کا ایک اہم جزو ہے۔ اس لئے دشمن کا ٹارگٹ اور اس کی دھمکی دونوں واضح ہیں۔ واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ وزارت داخلہ نے ایف آئی کے ڈائریکٹر کو انکوائری کا حکم دیا ہے۔

اس موقع پر لوگ ظاہر ہے حکومت کو ہی لعن طعن کریں گےْ لیکن آئیے ایک جائزہ اس بات کا لیتے ہیں کہ کیا واقعی جلوس کی سیکیوریٹی میں کسی قسم کی کمی چھوڑی گئی تھی؟

جلوس نشتر پارک سے نکلتا ہے اور ایم اے جناح روڈ سے گزرتا ہوا کھارادر پر ختم ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل راستہ ہے۔ جو شہر کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں سے گزرتا ہے۔ سینکڑوں گلیاں اور دسیوں سڑکیں ایم اے جناح روڈ کے دونوں اطراف سے آکر مرکزی شاہراہ پر ملتی ہیں۔ ایم اے جناح روڈ بند ہونے سے شہر دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور سڑک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک جانے کے لئے آپ کو تقریبا پورے ایم اے جناح روڈ کا چکر کاٹ کر راستہ ملتا ہے۔ لیکن چونکہ سڑک کے دونوں اطراف لاکھوں لوگ رہتے ہیں اس لئے جن علاقوں سے جلوس گزر چکا ہوتا ہے یا جہاں ابھی نہیں پہنچا ہوتا وہاں پیدل چلنے والوں کو سڑک پھلانگنے دی جاتی ہے۔

سندھ پولیس کے جوان ہر اس گلی اور سڑک کے نکڑ پر چوکس کھڑے ہوتے ہیں جو ایم اے جناح روڈ پر کھلتی ہے۔ عمارتوں پر اسنائپرز بٹھائے جاتے ہیں اور جلوس کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کی جاتی ہے۔ رینجرز کے جوان پوری سڑک پر تعینات ہوتے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں ایمبولینسیز، رینجرز اور پولیس کی گاڑیاں پوری سڑک پر موجود رہتی ہیں۔

سیکیوریٹی کی دوسری تہہ شعیہ تنظیموں کے اسکاؤٹس کی ہوتی ہے جو میٹل ڈیٹکٹر اور دیگر آلات سے لیس تھے اور جلوس کو چاروں طرف سے مکمل گھیرے میں لئے رہتے ہیں۔

خودکش حملہ آور یقینا نشتر پارک سے موقع کی تاک میں ہوگا۔ مگر اسے جلوس کے درمیان پہنچنے کا موقع نہیں مل سکا۔ یہاں تک کے شام ہونے کو آئی اور اس کی گھبراہٹ عروج پر پہنچ گئی کیونکہ چند گھنٹوں میں جلوس اختتام پذیر ہوجانا تھا۔ اس نے لائٹ ہاؤس کے قریب ایک گلی کے نکڑ سے جلوس میں داخل ہونے کی کوشش کری تو اسے اسکاؤٹس نے روک لیا اور اس نے گلی کے نکڑ پر ہی خود کو اڑادیا۔ اگر وہ جلوس کے درمیان خود کو اڑاتا تو جانی نقصان بہت زیادہ ہوتا۔

سیکیوریٹی میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی تھی اور نہ ہی دھماکے کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے میں کوئی تاخیر کی گئی۔ کراچی کی مقامی انتظامیہ ایمرجنسی ریسپانسز میں ملک کے تمام اداروں سے زیادہ مستعد ہے۔ اور ایسے سانحات پر شہر بھی کی تنظیمیں ایک بہت بڑی مشین کی طرح تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ ہسپتال ریڈ الرٹ پر ہوتے ہیں اور جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔

دھماکے کے آدھے گھنٹے کے اندر ہی چند افراد کے ایک چھوٹے سے گروہ نے بولٹن مارکیٹ کی دکانوں کو جلانا شروع کردیا۔ اس بات کے عینی شاہدین موجود ہیں کہ جلاؤ گھیراؤ کرنے والے منظم طریقے سے اپنا کام کررہے تھے، وہ کسی بھی طرح عزادار نہیں دکھائی دے رہے تھے، اور ان کے حلیوں کے بارے میں اس لئے کچھ نہیں کہونگا کیونکہ یہ لسانی تعصب کا تاثر دیگا۔

کراچی کے شہریوں کا ردعمل ہمیشہ بہت مثبت ہوتا ہے۔ اس شہر نے دہشت گردی کے کئی حملے سہے ہیں اور ایمرجنسی میں اس کے ادارے بہت عمدہ ریسپانس دیتے ہیں۔ تمام ادارے خاص طور پر پولیس اور رینجرز کے جوان، ہمارے فائر فائٹرز، ہمارے ڈاکٹرز اور نرسز، عام شہری جو زخمیوں کی مدد کو فورا آپہنچتے ہیں، ہماری شہری انتظامیہ سب اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔

پوسکتا ہے آپ کہیں کہ اگر احسن طریقے سے کام کرتے ہیں تو یہ اربوں روپے کی املاک کیسے جلادی گئی؟

کراچی میں فرقہ ورانہ فسادات نہیں ہوتے۔ لیکن کراچی میں ہر علاقے، ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگ رہتے ہیں۔ اس لئے فسادات کو روکنے کے لئے بطور خاص کوششیں کی جاتی ہیں اور اکثر شہر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیمیں ہم آہنگی سے امن کی کوششیں کرتی ہیں۔ آپ ایسی کوششیں تب دیکھ چکے ہیں جب ایم کیو ایم کے کراچی میں قبائلی متاثرین جنگ کی رجسٹریشن کے مطالبے پر شہر میں لسانی کشمکش پیدا ہوگئی تھی۔ لیکن بات چیت سے ٹینشن کو ڈفیوز کیا گیا۔ اس موقع پر بھی ایسا ہی ہوا۔ شہر کی پولیس فورس اور انتظامیہ کی فوری توجہ جلوس کو بہ حفاظت اس کی منزل تک پہنچانے پر تھی۔ دوسرا ایشو زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کا تھا۔ تیسرا مسئلہ جو ایک اور ڈائیورژن تھا وہ یہ تھا کہ شہر کے چند علاقوں میں ہوائی فائرنگ شروع کردی گئی۔ اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر دشمن اپنا دوسرا حملہ کرنے میں کامیاب ہوا اور انہوں نے دکانیں اور مارکیٹیں جلادیں۔

ان مارکیٹوں میں اور ملحقہ عمارتوں کے گوداموں میں تمام سامان ایسا تھا جو آسانی سے آگ پکڑنے والا تھا۔ جیسا کہ پرفیوم، اسپرے، ادویات، پلاسٹک، کپڑا، وغیرہ۔ اس کے باوجود اس آگ پر قابو پانے کی جان توڑ کوشش کی گئی۔ یہ آگ کسی ایک عمارت میں نہیں بلکہ کئی عمارتوں پر مشتمل ایک پورے تجارتی علاقے میں لگی ہوئی تھی جس پر اگر آپ شہر میں فائر بریگیڈ کے ریسورسز مدنظر رکھیں تو یہ ایک بڑی کامیاب امدادی کاروائی تھی۔ گرچہ پہنچنے والا نقصان اربوں روپے میں ہے مگر یہ علاقہ اسقدر گنجان ہے کہ آگ اس سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلنے کا امکان تھا۔

شہید ہونے والوں میں ایک رینجرز کے جوان اور ایک فائر فائٹر بھی ہیں۔ جو اس شہر کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت میں ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں معصوم بچے بھی ہیں اور خواتین بھی۔ جو املاک جلائی گئیں ان سے شہر میں سینکڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، اور کتنوں ہی کے کاروبار ایسے برباد ہوئے ہیں کہ وہ اب کبھی نہ اٹھ سکیں گے۔

اس موقع پر بھی ایسے قلمکار جو شہر کراچی کے بارے میں عجیب سے تعصبات کا شکار ہیں، حماقت افشانی، بھونڈے طنز اور اپنی بے تکی خوشی کو چھپا نہیں پارہے۔ اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو تعصبات سے دور رہیں اور ایسے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ اللہ ہمارے ملک ہمارے شہر اور ہمارے محلوں کو اپنی امان میں رکھے۔

اے میرے بابا جاں

ہاتھ کانوں پہ ہیں
نیل گالوں پہ ہیں
اور نشاں جو سکینہ کے شانوں پہ ہیں
ہر نشان سے یہی
آرہی ہے صدا

بابا جاں بابا جاں

کل تھی ماں آج میں بھی ہوں دربار میں
مثل زہرا کھڑی ہوں میں اغیار میں
اس طرف ہے شقی اس طرف رہ گئیں بےپدر بیٹیاں

ایسا خطبہ دیا میں نے دربار میں
لکھ رہا ہے جو یاور تیرے پیار میں
لہجئہ حیدری ہر اذاں کے لئے ہے صدائے اذاں

اے میرے بابا جاں
ہورہی ہے اذاں
سر چھپاؤں کہاں

معرکہ کربلا نے اسلامی ادب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس المناک سانحے کی یاد میں لکھے جانا والا ادب، نوحہ خوانی اور بیان کربلا نے اسلامی کلچر کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ مجھے گذشتہ چند دنوں سے نوحہ خوانی، شیعہ مقررین کے خطابات اور دیگر لٹریچر اور ملٹی میڈیا دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ کیا سچ ہے کیا مبالغہ، جو بات مجھے تحیر میں مبتلا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ سانحہ کربلا کا مسلمان سوچ پر ایک بہت زبردست اثر ہے اور اس کا زیادہ تر کریڈٹ ان تاریخ دانوں کو نہیں جاتا جنہوں نے یہ واقعہ اپنے اپنے طریقے سے بیان کیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے اس کی عظمت کو اپنے فن کی مہارت سے اجاگر کیا۔ ان میں خطیب، سوز و نوحہ خواں، شاعر، ادیب، مذہبی اسکالر سب کی کوششیں شامل ہیں۔

صدر بھگاؤ ملک بچاؤ پروپگینڈہ

روزنامہ جنگ پر سلیم صافی لکھتے ہیں:

زرداری صاحب کے سیاسی گناہوں کی فہرست بڑی لمبی ہے لیکن یہ جو این آراو کی چھری سے انہیں ذبح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ‘ اسے زیادتی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا ؟ آخر این آر او میں ان کا کیا کردار ہے؟ ۔ یہ ڈیل تو بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے مابین ہوئی۔ تب تو زرداری صاحب کھڈے لائن لگے ہوئے تھے لیکن تماشہ یہ ہے کہ کوئی بی بی کو الزام دے رہا ہے اور نہ پرویز مشرف کواور سب کے سب آصف زرداری کو نشانہ بنارہے ہیں ؟ سوال یہ ہے کہ یہ شور اس وقت کیوں بلند نہیں ہوا جب این آراو کے تحت بی بی اور دیگر لوگ پاکستان آرہے تھے؟ میاں نواز شریف نے اس این آراو زدہ پارٹی کے ساتھ اتحاد کیوں کیا؟ جب زرداری صاحب ایک مشکوک ول (Will) کے تحت پارٹی قیادت سنبھال رہے تھے ‘ تو ان کے ان مخالف عقابوں نے اس وقت احتجاج کیوں نہیں کیا؟ پھر جب وہ گارڈ آف آنرز کے شوق میں پارٹی قیادت کے ساتھ ملکی صدارت سنبھالنے جا رہے تھے‘ تو ان کے ناقدین نے تب یہ قیامت کیوں برپا نہیں کی؟تب تو ہر کوئی ان کی صلاحیتوں اور سیاسی چالوں کی تعریفیں کررہا تھالیکن اب کیری لوگر بل کے بعد ہر ایک کو زرداری صاحب کے جرائم یاد آگئے ہیں ۔جب وہ صدارتی امیدوار بن رہے تھے ‘ تب بھی بین الاقوامی میڈیا میں ان کو مسٹر ٹن پرسنٹ کے القابات سے یاد کیا جارہا تھا‘ سوال یہ ہے کہ اس وقت ہم نے مزاحمت کیوں نہیں کی؟ آخر اس ملک میں ہٹانے اور بٹھانے کا یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟ ملک کے دیگر حقیقی اور دائمی مسائل کو نظرانداز کرکے‘ایک ہی ایشو کو اٹھا کر ‘ اسے قوم کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنانے کا یہ گندا کھیل آخر کب ختم ہوگا؟

اسی مضمون میں آگے لکھتے ہیں۔

ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ پچھلی حکومت میں ایسے وزراء بھی بیٹھے تھے جن کے خلاف عدالتوں میں کیسز چل رہے تھے ؟۔ میاں نواز شریف جب وزیراعظم تھے ‘ تب بھی ان کے خلاف عدالتوں میں کئی مقدمات پینڈنگ تھے ۔ عدالتوں کا ریکارڈ نکالا جائے تو قاضی حسین احمد سے لے کر عمران خان تک ‘ کوئی پاکستانی لیڈر ایسا نہیں ملے گا جس کے خلاف مقدمات درج نہ ہوں۔ کم از کم دفعہ ۴۴۱ کی خلاف ورزی کا کیس تو ہر ایک کے خلاف درج ہے ۔پھر تو اس ملک میں کوئی بھی کسی حکومتی عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم پیپلز پارٹی کے این آر او کا ذکر کرتے ہیں تو میاں نواز شریف کے این آر او کے بارے میں کیوں خاموش ہیں ؟۔ انہیں تو بعض مقدمات میں سزا بھی ہوئی تھی لیکن پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل کے نتیجے میں ان کے تمام مقدمات ختم ہوئے اور وہ خوشی خوشی سعودی عرب چلے گئے ۔ فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ ڈیل بے نظیر بھٹو نے بھی کی اور میاں نواز شریف نے بھی ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے باہر جانے کے لئے اور دوسری نے ملک میں واپس آنے کے لئے کی ۔ ایک نے اس کے نتیجے میں سیاست سے آوٹ رہنے کی شرط مان لی اور دوسری نے اسے سیاست میں داخلے کا ذریعہ بنایا ۔ اب ایک این آر او کے بارے میں چیخ و پکار اور دوسرے کے بارے میں خاموشی‘ یہ کہاں کا انصاف ہے ؟

آج ہی کے جنگ کے ادارتی صفحے پر ہی دوسرا مضمون محمود شام صاحب کا ہے۔ ان کے مضمون سے اقتباس پیش کرتا ہوں:

دنیا بھر میں آئین بنانے والے صدر مملکت کو اگر عدالتوں میں طلب کئے جانے سے استثنیٰ دینے کی شقیں شامل کرتے رہے ہیں۔ اس میں مملکت کا تقدس اور احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ یہ خیال ہوتا ہے کہ مملکت سب کی ماں ہے۔ سب کے نزدیک قابل عزت ہے۔ اس کے سلسلے میں کوئی اختلاف، کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس کی سربراہی پر جو شخصیت فائز ہو اس کا احترام اور وقار بھی اسی لئے ہونا چاہئے۔ مملکت کے لئے۔ اس کی ذات کے لئے نہیں۔ اس کی شخصیت کو اگر ہدف بنایا جائے گا تو ایک طرف تو مملکت بھی زد میں آئے گی کیونکہ سربراہ تو وہی ہے اور وہ اس ایوان میں بھی مقیم ہے جو سب کے نزدیک قابل قدر ہے، جو ملک کی عظمت اور بلندی کا نشان ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ملک کی تاریخ میں کئی بار ایسے لوگ بھی سربراہ بن گئے جو آئین اور قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نہیں بلکہ بندوق کے زور پرصدر بنے۔ اس لئے ایوان صدر بھی ان کی شخصیت کی طرح متنازع ہوتا رہا۔ اس سے مملکت کو بھی سنگین نقصانات پہنچے۔ صرف عہدہ صدارت ہی نہیں، فوج بھی مطعون ہوتی رہی۔ مسلح افواج کو بھی جو محبت، وقار اور احترام میسر آنا چاہئے، وہ ان کے حصے میں بھی تاریخ کے ان ادوار کی طرح نہیں آسکا لیکن جب ایک شخصیت آئین اور قانون کے تمام مطلوبہ تقاضے پورے کرتے ہوئے صدر مملکت بننے کے لئے میدان میں آرہی ہو تو کافی وقت ہوتا ہے کہ اگر اس شخصیت کے بارے میں کوئی الزامات، شکوک و شبہات، شواہد ہوں تو ان کی بنا پر اعتراض کیا جائے اور اسے صدر جیسے مقدس عہدے پر آنے سے روکا جائے۔ اگر یہ مہلت استعمال نہیں کی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بارے میں ایسے شواہد میسر نہیں تھے جو اسے اتنے اہم ترین منصب کے لئے نااہل قرار دے سکتے لیکن تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب ہم کسی وجہ سے بھی کسی شخصیت سے بیزار ہوجاتے ہیں تو اس کے حوالے سے ایک طرف تو آئین، تہذیب، شائستگی، روایات سب کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسری طرف اس کے علاوہ سب کو پارسا، باکردار اور ہرعیب سے بالاتر خیال کرنے لگتے ہیں بلکہ ان کی برائیاں بڑی بڑی بھی چھپاتے ہیں جبکہ اپنے ہدف کی چھوٹی چھوٹی خامیاں بھی بڑھ چڑھ کر اچھالتے ہیں۔ مملکت کے سربراہ کو آئین بنانے والے نے صدیوں کی سوچ کے بعد جو استثنیٰ دیا، اس کا مطلب صرف عدالت میں طلبی سے مستثنیٰ کرنا نہیں تھا بلکہ اس کی روح یہ ہے کہ ملک بھر میں اس ادارے کا بھرم رکھا جائے۔ اگر کوئی خامیاں ہیں بھی تو انہیں دور کرنے کا مشورہ دیا جائے نہ کہ ان کو ضرورت سے زیاد بڑھا کر طبل جنگ بجادیا جائے۔ صرف عدالتیں ہی نہیں تمام سرکاری محکمے، میڈیا، معاشرہ بھی اس استثنیٰ کو سامنے رکھیں تو مملکت کا تقدس برقرار رہ سکتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اتنا ہنگامہ برپا کردیا جائے کہ عدالت بھی استثنیٰ کو ترک کردے۔ صدر یا سربراہ دنیا بھر میں فرشتے نہیں ہوتے۔

یہی سوال مجھے بھی تنگ کرتا ہے۔ کہ ہمارے ذمے دار صحافی جناب “اسٹیبلیشمنٹ کے مطابق” اور جناب “ایجنٹ عباسی” صاحب تب کہاں سورہے تھے جب این آر او پیش ہوا؟ صدر پاکستان کے انتخاب کے وقت یہ ذمے دار حضرات کہاں سورہے تھے اور کیوں اس وقت انہوں نے این آر او اور زرداری کی اہلیت پر مباحثے نہ چھیڑے۔ اور یہ سب کیری لوگر بل کے بعد ہی کیوں شروع ہوا؟ ان صحافیوں کا ضمیر بہت ہی سینکرونائزڈ ہے ایک ساتھ جاگتا اور سوتا ہےیہ ایک جیسے موضوعات کو زیر بحث لاتے ہیں اور ایک جیسے موضوعات کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ یہ دوسرا صدر پاکستان ہے جو اس گروہ کے شدید پروپگینڈے کا نشانہ بن رہا ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ یہ دوسرا صدر بھی ان کے پے در پے حملوں کی تاب نہ لاکر شکست تسلیم کرلے۔ یہ اس صدر کی شکست نہیں ہوگی۔ یہ پاکستان کے پارلیمان اور عوام کے ووٹ کی شکست ہوگی۔

ملک جن حالات کا شکار ہے ان سے نکلنے کا راستہ حکمران بدلتے رہنا نہیں ہے۔ بلکہ اسٹیبلیشمنٹ کی حکمرانی کو ختم کرنا ہی اس مسئلے کا حل ہے اور زرداری کی صدارت قائم رہنا پاکستان کے جمہوری مستقبل اور استحکام کے لئے ازحد ضروری ہے۔ اگر پاکستان زرداری کے اب تک کے مبینہ ہزاروں کھرب روپے کی کرپشن برداشت کرچکا ہے تو دو ایک سال مزید ان کے اقتدار میں رہنے سے کوئی قیامت نہیں آجائیگی۔

ایک بٹن کا فرق

جب کہ ہمارے ملک میں معرکہ خیر و شر بپا ہے، ہر طرف آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ کسمپرسی اور افلاس کا دور دورہ ہے۔ ایسے میں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے ٹیلیوژن کے رئیلیٹی سے بے حد دور رئیلیٹی شوز دلوں کا بڑا سہارا ہیں۔ ایک ٹی وی شو جو آجکل ہمارے گھر میں بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے وہ ہے ڈانس پریمئیر لیگ۔

رقص و موسیقی کے اس پروگرام میں بھارت کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے نوجوانوں کو مختلف ٹیموں میں بانٹا گیا ہے۔ ہر ٹیم اپنے علاقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ گرچہ ان کا سارا زور مغربی اور بالی ووڈ مسالہ ڈانسز پر ہی ہوتا ہے۔ مگر ہر ٹیم وقتا فوقتا اپنے علاقائی رقص پیش کرتی رہتی ہے۔ جیسے کتھک، جنوبی بھارت کے رقص، مہارشٹرن رقص، وغیرہ۔

ہم چونکہ مسلمان ہیں اور ایک ہی امت سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ہم نے ساٹھ سال یہی زور لگاتے صرف کردئیے کہ ہم ایک قوم ہیں۔ پورے ملک کو شلوار قمیض پہنا کر اردو کو سب پر تھوپا گیا۔ زبردستی کے قومی فلاسفر بنائے گئے ان کی بے تکی فلاسفی سے ایک قوم کا فلسفہ اخذ کرنے میں محقیقین نے سالوں مختص کردئیے۔ کبھی مذہب کا سہارا لیا، کبھی عظیم دشمن کے ڈراوے کا۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ ہم قوم کو متحد رکھنے اور ایک قومی شناخت دینے میں وہ کامیابی نہ پاسکے جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا۔ اور ان کوششوں میں ہم نے اپنی علاقائی شناخت کو بری طرح مسخ کرڈالا۔

اتنی کوششوں کے باوجود بھی آج ہم پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچی اور مہاجر ہیں۔ علاقاَئی شناختوں کو کچلنے کے اس عمل نے قوم کے نوجوانوں کو احساس کمتری کے سوا کچھ نہ دیا۔ اس ایک قوم بننے کی لاحاصل سعی نے قوم کے نوجوانوں کو شناخت کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار کیا۔ عصبیتوں کو فروغ دیا اور نفرتوں کو ہوا دی۔

اگر ہم ایک قوم بننے کے لئے ایک دستور کا سہارا لیتے، رواداری اور انصاف کو فروغ دیتے۔ عقلیت پسندی کو اپنے فلسفے کی بنیاد بناتے، تو شاید ایک مضبوط قوم بن پاتے۔ ہم نے اپنی جان سے بڑے جوکھم مول لئے۔ ایک قوم جو خود شناخت کی تلاش میں تھی، وہ ایک امت کی تشکلیل کے ذریعے ایک نئے مذہبی ورلڈ آرڈر کی تلاش میں مگن ہوگئی۔ ہزارہا نوجوان اس کوشش میں اپنی جان ہارے اور مزید ہزاروں اس وقت خونی ہتھیاروں سے لیس برسر پیکار ہیں۔

ساٹھ سال میں ہم آج اپنی چوتھی فل اسکیل جنگ لڑ رہے ہیں۔ ساٹھ سال میں ہمارے دریا خشک ہورہے ہیں اور ہمارے دلوں میں نفرتوں کے لاوے ابل رہے ہیں۔ ساٹھ سال میں خوشحالی کا دور کبھی نہ آیا، ساٹھ سال میں ہم کبھی متحد نہ ہوسکے، ساٹھ سال میں ہم ایک ادارہ ایسا نہ بناسکے جس پر قوم کو اعتماد ہو۔ کیا ساٹھ سال کسی نظرئیے کی شکست کو کافی نہیں ہوتے؟

ہمارے ٹیلیوژن میں جیو نیوز اور سونی اینٹرٹینمینٹ برابر لگے ہیں۔ ایک چینل پر خوشی سے تمتماتے چہرے محو رقص ہیں اور دوسرے پر پریشان حال لوگ جنگ بھوک اور مفلسی سے بدحال۔ صرف ایک بٹن کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے۔

ابنٹو کارمک کوآلا پر ایک نظر

ابنٹو کا اگلا نسخہ، ابنٹو نو اعشاریہ دس المعروف کارمک کوآلا اگلے چند دن میں جاری ہونے والا ہے۔ میں نے اس کا بیٹا نسخہ اتارا اور آزمایا ہے۔ یک سطری رائے دوں تو کارمک کوآلا، نہ صرف ابنٹو بلکہ آج تک میں نے جتنی بھی لینکس ڈسٹروز آزمائی ہیں ان سب میں بہترین ہے۔

اب ذرا تفصیل۔ سب سے پہلی بہتری جو کہ پچھلے نسخے میں بھی موجود تھی وہ ہے برق رفتار بوٹ اپ۔ ابنٹو نے اپ اسٹارٹ کے ذریعے جن تبدیلیوں کا آغاز کیا تھا کارمک میں ان تبدیلیوں کو بہتر کیا گیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ کارمک تیزی سے بوٹ ہوتا ہے بلکہ لاگ آن اسکرین سے ڈیسکٹاپ کی ٹرانسیشن کو بھی خوبصورتی سے تراشا گیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جسے آپ کا ڈیسکٹاپ فوری لوڈ ہوگیا ہو۔ رفتار کے ساتھ خوبصورت انیمیشن کے ذریعے ڈیسکٹاپ کو منتقلی آپ کو فوری طور پر ایک استعمال کے لئے تیار ماحول فراہم کرتی ہے۔

ubuntu-910-karmic

اس نسخے میں ڈیسکٹاپ بیک گراؤنڈ، آئیکونز، اور یوزر انٹرفیس میں بھی چند دلچسپ اور خوبصورت تبدلیاں کی گئی ہیں۔ گنوم کا ابنٹو تھیم اس نسخے کے لئے موڈیفائی کیا گیا ہے۔ تھیم کی دو نمایاں خوبیاں ایک تو نئے آئیکون جو آنکھوں کو بھلے معلوم ہوتے ہیں اور ڈیسکٹاپ ماحول میں زیادہ بہتر فٹ ہوتے ہیں۔ دوسری کنٹرولز اور ونڈوز کی کلر اسکیم اور بٹنوں کے سائز کی ہے۔ پچھلے نسخے کے تھیم کی خامی یہ تھی کہ وہ ڈیسکٹاپ ماحول کو عجب گولا گنڈا سا رنگین بنادیتا تھا اسے دور کیا گیا ہے۔ آنکھوں کو چبھتے نارنگی رنگ کے بجائے چاکلیٹی کلر کا استعمال کیا گیا ہے۔ گنوم کے نئے نسخے میں مینو بٹنز جیسے یس نو اور کینسل وغیرہ پر آئیکون بنے نظر نہیں آتے جس سو وہ کافی بھلے دکھائی دے رہے ہیں۔

گنوم کے نئے نسخے کے استعمال کے ساتھ، اب ابنٹو نے پڈجن انسٹنٹ مسینجر کی جگہ ایمپیتھی شامل کیا ہے۔ یہ پڈجن سے کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس سے آپ گوگل ٹاک پر آڈیو ویڈیو چیٹ بھی کرسکتے ہیں تاہم میں نے یہ فیچرز آزمائے نہیں ہیں۔

ubuntu-910-screenshot

ایک اہم خاصیت اس نسخے کی یہ ہے کہ یہ ای ایکس ٹی تھری فائل سسٹم کی جگہ ای ایکس ٹی فور فائل سسٹم بائی ڈیفالٹ استعمال کرتا ہے۔ یعنی اگر آپ ایک فریش انسٹال کرتے ہیں اور ایک پارٹیشن یا ڈسک منتخب کرتے ہیں تو یہ اسے بائی ڈیفالٹ ای ایکس ٹی فور کے طور پر فارمیٹ کرے گا۔ آپ چاہیں تو ای ایکس ٹی تھری ہی استعمال کرسکتے ہیں۔

اس نسخٔے میں فائر فوکس کا نیا نسخہ 3.5 استعمال ہوریا ہے جو کافی تیز ہے۔ اور اب کی بار فائر فوکس کی گنوم انٹگریشن میں کافی بہتری نظر آرہی ہے۔ فلیش اور دیگر پلگ انز کی انسٹالیشن کا طریقہ کار وہی پرانا ہے یعنی آپ کو ابنٹو ریسٹرکٹڈ ایکسٹراز نامی ایک پیکیج انسٹال کرنا ہوگا۔

جن لوگوں کو انٹیل کے ڈرائیورز استعمال کرتے ہوئے ابنٹو کے پچھلے ورژن میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ان کی مشکلات اب کی بار نئے انٹل ڈرائیورز کی بدولت حل ہوجائیگی۔

چونکہ یہ بیٹا نسخہ ہے اس لئے اس میں کئی خامیاں ابھی بھی موجود ہیں مگر جس رفتار سے اپڈیٹ آرہے ہیں اور بگ فکسنگ جاری ہے اس سے لگتا ہے کہ ریلیز سے قبل ان میں سے اکثر غائب ہوچکی ہونگی۔ فی الحال اس میں ٹوٹم میڈیا پلئر میں ویڈیو پلے کرتے وقت اگر آپ فارورڈ کرتے ہیں اور ویڈیو xvid کوڈک میں ہے تو آڈیو آگے پیچھے ہوجاتی ہے۔ ٹوٹم کا یو ٹیوب پلگ ان بہت عمدہ ہے اور اب اس میں بی بی سی پلگ ان بھی ڈال دیا گیا ہے جس سے آپ بی بی سی کی پوڈکاسٹس سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

حسب روایت ابنٹو ابھی بھی اردو لکھنے والوں کے لئے بہترین آپریٹنگ سسٹم ہے۔ اس نسخے میں ابنٹو پر اردو کی تنصیب کو مزید آسان بنادیا گیا ہے۔ آپ لینگویجز پر جاکر صرف ایک کلک کے ذریعے اردو سپورٹ انسٹال کرسکتے ہیں۔ ابنٹو کی اردو سپورٹ میں گنوم، اوپن آفس، نفیس ویب نسخ بطور فونٹ، اور کئی دیگر پیکجز شامل ہیں۔ کی بورڈ لے آؤٹس میں بھی ابنٹو آپ کو ایک نہیں بلکہ چار اردو کی بورڈ لے آؤٹ میں سے انتخاب کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ان میں اردو ویب پر نصب کی بورڈ لے آؤٹ اور کرلپ کا فونٹک کی بورڈ لے آؤٹ دونوں شامل ہیں۔

ubuntu-910-urdu

وزیرستان کی لڑائی

پاکستان کی افواج نے تیس ہزار جوانوں کے ساتھ پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقہ جات میں آپریشن شروع کردیا ہے۔ اس آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹر، لڑاکا طیارے، بھاری توپخانے اور دیگر اسلحہ استعمال کیا جارہا ہے۔

پاکستان آرمی کے مد مقابل اندزا دس ہزار کے قریب طالبان اور القاعدہ جنگجو ہونگے۔ پاکستانی طالبان کی کمان حکیم اللہ محسود نے سنبھالی ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی نے ایک مخصوص علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ یہ علاقہ دشوار ہے اور بھاری اسلحے کی نقل و حمل یہاں بہت مشکل ہے۔ مگر پاکستان آرمی، صوبہ سرحد کی حکومت اور قبائلیوں کے درمیان مذاکرات کے سبب یہ توقع کی جارہی ہے کہ آپریشن میں دیگر قبائل محسود قبیلے اور محسود طالبان کی مدد کو نہ آئیں گے۔ اس سے آپریشن کے سرعت اور کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے کی توقع ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مقامی قبائلی طالبان کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں ازبک اور عرب باشندے بھی لڑائی میں شامل ہیں۔ اب تک چھ جوانوں کی شہادت کی اطلاع ہے۔

یہ لڑائی پاکستان کی حالیہ دہشت گرد مخالف جنگ کی سب سے اہم لڑائی ہے۔ گرچہ اس کا فوری مقصد تو محسود طالبان کی کمر توڑنا ہے۔ مگر آپریشن کے بعد بھی تحریک طالبان پاکستان کا صفایا ممکن نہیں ہے۔ جیسا کہ ان کے ترجمان بتا چکے ہیں کہ وہ پاکستان کے شہروں میں گوریلا وار لڑیں گے۔

گزشتہ دنوں ہونے والے حملے جن میں جی ایچ کیو پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی اتنی شاندار نہیں ہے۔ پاکستان کے گنجان آباد شہروں کو نشانہ بنانا طالبان اور القاعدہ کے لئے بہت آسان ہے۔

اگر آپ اس جنگ کی خبروں کو فالو کررہے ہیں تو غیر ملکی اخبارات لڑائی کی پاکستانی میڈیا سے زیادہ بہتر کوریج کررہے ہیں۔ یہ لڑائی پاکستان کی سلامتی کے لئے بے حد اہم ہے۔ تاہم اس لڑائی کا بہت زیادہ فائدہ نیٹو افواج کو نہیں ہوگا۔ تاہم پاکستان کی داخلی صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے۔

ٹیلی گراف پر پاکستان کے طالبان امور کے ماہر احمد راشد کا تجزیہ شائع ہوا ہے۔ احمد راشد کا خیال ہے پاکستان کی جدوجہد کا اختتام قریب نظر نہیں آتا۔

کمرشل بریک

عدلیہ کی آزادی
اور
مشرف کی مفروری

جیسی شاندار فلموں کے خالق ۔ ۔ ۔

دی گریٹ ڈیبیٹ ۔ ۔ ۔
میرے مطابق۔ ۔ ۔
کیپیٹل ٹاک ۔ ۔ ۔
اور آج کامران کے ساتھ ۔ ۔ ۔

کے مصنف

آسکر ایوارڈ یافتہ ٹی وی چینل ۔۔۔

اب پیش کرتا ہے:

کیری لوگر پریمئر لیگ۔

جس میں نیوز چینلز پر مباحثوں کے چیتے۔۔ امریکی امداد کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہونگے۔

آٹھ پہلوان،
ایک اسٹوڈیو،
چار کیمرے،
اور فیصلہ کرنے والے ہونگے آپ۔ ابھی چار چار چار سو بیس پر ایس ایم ایس کریں اور اپنے پسندیدہ کاغذی شیر کو ووٹ کریں۔

کس کو ملے یہ امریکی امداد؟
فوج کو، اسٹیبلیشمنٹ کو، یا پاکستان کے جمہوری اداروں کو؟

فیصلہ ہوگا لائیو اور جج ہونگے آپ۔

ایس ایم ایس کرنے والے ایک خوش نصیب کو بیس ڈالر کے نوٹ کی شکل دکھائی جائیگی۔ اور دس خوش نصیبوں کو ڈالروں کی خوشبو سنگھائی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔

کیری لوگر پریمئر لیگ ۔

ہر پیر سے جمعرات۔۔۔ شام سات بج کر دس منٹ اور رات گیارہ بج کر چھیاسٹھ منٹ پر

صرف اور صرف جیو نیوز پر

۔ ۔ ۔

نہا دھو کر جیو
ٹی وی دیکھ کر جیو

۔۔۔۔

آج کے اخبار سے

روزنامہ جنگ پر کالم نویس انور غازی نے آج لاعلمی اور بے تکی معلومات پر مبنی صحافت کی انتہا کردی ہے۔ موصوف نے بلیک واٹر کو فری مینسنز سے جا ملایا ہے اور یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ فری میسنز ایک یہودی تنظیم ہے۔ جسے پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور میں بین کردیا گیا تھا۔ موصوف کے تمام کالم کا دورامدار اس ویڈیو پر ہے جو ابھی چند دن پہلے ڈاکٹر علوی نے اپنے بلاگ پر شائع کی تھی۔

اس ویڈیو اور ڈاکٹر علوی کی پوسٹ پر میری رائے میرے انگریزی بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں۔

اور جب آپ جنگ کے ویب سائٹ پر انور غازی کا بے تکا مضمون پڑھ چکیں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کالم”خوشگوار یادیں” بھی ملاحظہ فرمائیے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہایت سادگی کے ساتھ بہت ہی شستہ زبان میں بڑی نفاست سے لکھتے ہیں۔ ان کے لہجے کی مٹھاس، بیان کی خوبصورتی اور اخلاص ان کی تحریر کی نمایاں خوبیاں ہیں۔

افسانوی کالم نگاری پر کچھ مزید

نئے جہادی لٹریچر کے جواب میں اردو بلاگستان کے متنازعہ تبصرہ نگار عبداللہ نے ایک تبصرہ شامل کیا ہے۔ یہ تبصرہ انصار عباسی کے کالم کی صنف یعنی افسانوی، تخلیقی، پروپگینڈہ کی طرز پر ہی لکھا گیا ہے۔ عبداللہ کے تبصرے میں بھی شوق شہادت سے سرشار ایک نوجوان اور ایک ماں کے کردار ہیں۔ احادیث اور قرآن کا ذکر ہے۔ اگر نعمان کی ڈائری ایک بلاگ نہ ہوتا بلکہ تخلیقی ادب کی تدریس کا حلقہ ہوتا تو میں آپ سب کو ایک مشق دیتا کہ اسی صنف میں ایک پوسٹ لکھیں۔ موضوع کوئی بھی متنازعہ رکھ لیں اور کردار بھی اپنی پسند کے منتخب کریں۔

ایک اخباری مضمون کا کینوس ایک باقاعدہ افسانے کے کینوس سے بہت چھوٹا ہوتا ہے آپ کے پاس محدود تعداد میں اخباری جگہ ہوتی ہے آپ کے ایڈیٹر کو وہ کالم اس میں فٹ کرنا ہوتا ہے۔ لحاظہ یہاں آپ کو بہت ہی احتیاط سے کردار و واقعات چننا ہوتے ہیں۔ ایک اچھے افسانے کی طرح آپ کے افسانے نما کالم کو ایک انجام تک پہنچنا ہوتا ہے جس کی منطق قاری کو سوچنے پر مجبور کرنا ہوتی ہے اور آپ کے کرداروں سے ہمدردی اور ان کی جدوجہد پر اپنی ایک رائے قائم کرنا ہوتی ہے۔ کامیاب افسانوی کالم کا معیار یہ ہے کہ قاری افسانوی کالم نگار کے موقف سے تقریبا متفق ہوجائے۔ چونکہ جگہ محدود ہوتی ہے اور کردار تخلیق کرنے اور واقعات بیان کرنے کے بعد دلائل کے لئے جگہ نہیں بچتی تو احادیث و قرآن کا سہارا لیا جائے تاکہ اگر کوئی اختلاف بھی کرنا چاہے تو آپ اسے یہ کہہ سکیں کہ تم خود کو قرآن و حدیث سے بالاتر سمجھتے ہو۔ اگر وہ ہاں کہے تو واجب القتل۔ نہ کہے تو پھر اسے قائل ہونا ہی پڑے گا۔

واضح رہے کہ اس پوسٹ اور اس سے پچھلی پوسٹ کا مقصد جہاد یا دہشت گردی پر بحث کرنا نہیں بلکہ تخلیقی ادب کی یہ نئی صنف ہمارا موضوع سخن ہے۔ میرا خیال ہے اس صنف کو باقاعدہ ادب تسلیم کیا جانا چاہئے اور اس میں ہونے والے کام کو ایک نئے زمرے کے تحت جمع کیا جانا چاہئے۔ بعض کالم تو تخلیق و ہنر کی بہت ہی خوبصورت مثال ہوتے ہیں۔ افسوس اتنا عمدہ تخلیقی مواد بطور کالم فروخت ہورہا ہے اور اگلے دن اس میں چنے بک رہے ہوتے ہیں۔

نیا جہادی لٹریچر

پاکستان کے سب سے زیادہ شائع ہونے والے، اور پڑھے جانے والے روزنامہ جنگ کراچی، اور انٹرنیٹ ایڈیشنز پر انصار عباسی کا مضمون۔ بقول ان کے یہ مضمون ایک پمفلٹ کے مندرجات پر مبنی ہے جو انہیں کسی ذریعے سے ملا۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ پمفلٹ کسی جہادی کی ماں نے تحریر کیا ہے۔

بالکل ایسے ہی جیسے ڈین براون اپنے ناول میں سائنس اور تاریخ کے پروفیسرز تخلیق کرتا ہے اور ان کے منہ سے جھوٹی سائنس اور فرضی تاریخ سنواتا ہے۔ افسانہ نگاری ایک بہت دلچسپ فن ہے ہم سب کہاںیاں سناتے ہیں۔ بوڑھے اپنی جوانی کی داستانیں جن میں وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی عمر رائیگاں نہیں گئی، بچے تصوراتی دوستوں کے قصے اور نوجوان اپنے خیالی محبوبوں کے احوال۔

مگر کچھ چالاک لوگ ہی کہانیوں سے پیسے کما پاتے ہیں۔